سندھ کے وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ خود کش حملے میں ملوث سہولت کار خاتون کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
سندھ کے وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے میں 2 چینی، پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے، ایئرپورٹ دھماکے کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور کا نام شاہ فہد عرف آفتاب تھا، سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس اداروں نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے تھے، موقع سے گاڑی کے چیچز اور نمبر پلیٹ ملی تھی۔
ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ خودکش بمبار کا ہاتھ ملا، فنگر پرنٹ سے پتہ چلا یہ فہد ہی ہے، مزید تحقیقات میں پتہ چلا گاڑی کے ساتھ ایک رکشہ والا تھا، رکشہ والے کا نام فرحان تھا، اس کے ساتھ محمد شریف نامی شخص بھی تھا، رکشہ والا بھی دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ساتھ تھا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ گاڑی ایک شوروم سے 71 لاکھ روپے میں لی گئی تھی، گاڑی کے لیے پیسے بینک کے ذریعے ٹرانسفر ہوئے تھے، جس کے اکاؤنٹ سے فنانسنگ ہوئی اس کا نام سعید تھا، بینک امپلائی کا نام بلال تھا۔
انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی ٹیم دہشت گردوں کے ہینڈلرز کی تحقیقات کر رہی ہے، بشیر نامی شخص بیرون ملک سے کالعدم بی ایل اے کو ہیڈ کر رہا ہے، حملے کا ماسٹر مائنڈ جاوید نامی شخص گرفتار ہے، سی ٹی ڈی کو شاباش دوں گا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا ہے۔
ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ سی ٹی ڈی ٹیم کو پاکستان پولیس میڈل کے لیے نامزد کرتا ہوں، سی ٹی ڈی ٹیم کے لیے 5 کروڑ روپے انعام کا بھی اعلان کرتا ہوں، بہت حساس معاملات ہیں مزید تحقیقات ہو رہی ہیں، بیرونی سازشوں پر نظر ہے، پاکستان کا مفاد اولین ترجیح ہے، گاڑی خریدنے کے بعد حب یا اس سے آگے کسی علاقے میں لے جائی گئی، گاڑی کو بلوچستان کے کسی علاقے میں بارودی مواد نصب کر کے لایا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ 4 اکتوبر 2024 کو یہ گاڑی حب سے کراچی کی طرف آئی، بارودی مواد وائٹ کلر کا کیمیکل ہے، یہ کیمیکل جرمنی میں سیکنڈ ورلڈ وار میں استعمال ہوا تھا، گاڑی میں نصب بارودی مواد کا وزن 30 سے 40 کلو تھا، ان کے ساتھ خاتون تھی جس کا نام گل نسا ہے، خاتون کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے، خاتون کو ساتھ اس لیے لایا گیا تاکہ کوئی سخت چیکنگ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جاوید نامی شخص سارے معاملات ہینڈل کرتا رہا، اسی نے ریکی کی تھی، جاوید نامی شخص رات 9 بجے ایئرپورٹ ایریا میں پیدل گیا، دھماکے سے قبل حملہ آور باہر والے ایریا میں تھے۔
