2 سال کے دوران پاور سیکٹر میں پٹرولیم کی کھپت میں 600 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2021-22 میں پاور سیکٹر میں پٹرولیم کھپت 36 لاکھ 88 ہزار میٹرک ٹن تھی، جبکہ سال 2023-24 میں پاور سیکٹر میں کھپت کم ہو کر 6 لاکھ 7 ہزار میٹرک ٹن پر آگئی۔
اسی طرح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں بھی 5 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن کمی ہوگئی ہے، 2023-24 کے دوران ایک کروڑ 69 لاکھ میٹرک ٹن پٹرولیم مصنوعات استعمال کی گئیں۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ سال 2022-23 میں پٹرولیم مصنوعات کا استعمال ایک کروڑ 74 لاکھ 87 ہزار میٹرک ٹن تھا، ایک سال میں انڈسٹری کے پٹرولیم استعمال میں 50 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کمی ہوئی ہے۔
2023-24 کے دوران انڈسٹری نے 10 لاکھ 76 ہزار میٹرک ٹن سے زائد پٹرولیم کھپت کی، جبکہ مالی سال 2022-23 میں انڈسٹری میں پٹرولیم کی کھپت 11 لاکھ 27 ہزار میٹرک ٹن تھی۔
دستاویز کے مطابق 2 سال میں ٹرانسپورٹ سیکٹر میں پٹرولیم کے استعمال میں 39 لاکھ 61 ہزار میٹرک ٹن کمی ہو ئی ہے، جبکہ 2023-24 میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے ایک کروڑ 34 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پٹرولیم کھپت کی۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ 2022-23 میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کھپت ایک کروڑ 36 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جبکہ مالی سال 2021-22 میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کی پٹرولیم کھپت ایک کروڑ 74 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جبکہ گزشتہ 6 سالوں کے دوران پٹرولیم کے مقامی استعمال میں 28 ہزار میٹرک ٹن تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2018-19 میں پٹرولیم کی مقامی کھپت 60 ہزار میٹرک ٹن سے زائد تھی، مالی سال 2023-24 میں پٹرولیم مصنوعات کی مقامی کھپت 32 ہزار ٹن پر آگئی، دستاویز
