سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اسموگ کی بگڑتی صورتحال پر لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کردیا۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسموگ پر قابو پانے کیلئے 3 ماہ کے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں، ریسٹورنٹ کو شام 4 بجے تک کا وقت دیا ہے، رات 8 بجے تک ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کالجز اور یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز ہوں گی، اسکول مزید ایک ہفتے تک بند رہیں گے، ہیلتھ ڈیسک، اسپتالوں میں اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرنے اور محکموں کو ادویات کی فراہمی کی ہدایت کردی گئی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسموگ کی لپیٹ میں ایبٹ آباد ملتان لاہور بھی شامل ہے، مریم نواز نے مارچ میں اسموگ کا دس سالہ پلان بنایا، اسموگ کے لیے مختلف محکموں کو ٹارگٹ دیے گئے۔
انکا کہنا تھا کہ جسٹس شاہد کریم نے جوڈیشل کمیشن بنایا اس پر ان سے ملاقات کی، کورٹ میں اسموگ پر سماعت تھی چاہتی ہوں جج صاحب کو بریفنگ دوں وزیر اعلیٰ نے دس سالہ اسموگ پلان بنایا ہے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ اسموگ ہیلتھ کرائیسس میں تبدیل ہو چکی ہے ہر طرف سے تجاویز آ رہی ہیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے، اسموگ پر جو تجاویز آئیں وہ پہلے ہی وزیر اعلیٰ پلان میں موجود ہیں، روڈ میپ آف اسموگ میٹیگیشن پلان پنجاب بنایا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت میں پہلی بار سپر سیڈر ایک ہزار کسانوں کو دیے دیے ہیں، سپر سیڈ کے چالیس فیصد کسان اور ساٹھ فیصد پیسے حکومت دے رہی ہے، پانچ ہزار سپر سیڈر پنجاب میں تقسیم کرنے کا پلان ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ای بائیکس ای اے کیو آئی پلان بنایا ہے، لاہور، ملتان شیخوپورہ، گوجرانوالہ میں بھی اسموگ کا مسئلہ ہے اسے ان جگہوں پر لائیں گے، لاہور میں ای دو تھری فور وہیلرز اسکیم لا رہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ آٹھ سو سے زائد بھٹے گرا دیے گئے ہیں، لاہور کا جنگل چھتیس فیصد ہونا چاہیے جو اب تین فیصد ہے، گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی فٹنس چیک کرنے کا قانون ہے موجود نہیں تھا۔
پنجاب کی سینئر وزیر نے مزید کہا کہ ٹھوکر، گارڈن ٹاؤن، کالا شاہ کاکو پر ونگ اسٹیشن بنا دیے گئے ہیں، تیس گیس انینالائسس لاہور میں لا دیے گئے ہیں جو فٹنس سرٹیفکیٹ دیں گے، اسموگ چھ ماہ یا ایک سال میں ختم نہیں ہوگا اس کے لئے تین تین ماہ کے شارٹ ٹرم پلان لا رہے ہیں۔
