ڈی جی آر ای اور سوسائٹی ایکٹ کے مابین موازنہ ایک چشم کشا حقیقت ہے۔
ڈی جی آر ای وزارت تعلیم کے ماتحت ایک منظم اور معیاری نظام کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کو سہل، تیزرفتار اور شفاف بناتا ہے جبکہ سوسائٹی ایکٹ وزارت صنعت و تجارت یا وزارت داخلہ کے تحت مدارس کو نہ صرف غیرمعیاری قانونی جکڑبندیوں میں جکڑتا ہے بلکہ رجسٹریشن کے پیچیدہ مراحل، بھاری فیسوں اور کاغذی بوجھ تلے دبانے کے مترادف ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ جب پاکستان کے باقی تمام تعلیمی ادارے محکمہ تعلیم سے منسلک ہیں تو دینی تعلیمی ادارے وزارت صنعت و تجارت یا وزارت داخلہ سے منسلک ہونے کی کوئی منطقی وجہ موجود نہیں ہے۔
مدارس کو عصری علوم کی فراہمی، طلبہ و طالبات کی تکنیکی تربیت، بیرونِ ملک طلبہ کے ویزا مسائل کا حل اور تعلیمی ترقی کی راہ ہموار کرنا ڈی جی آر ای کے کارناموں میں شامل ہیں، جبکہ سوسائٹی ایکٹ میں مدارس کو سیاسی سازشوں اور قانونی بلیک میلنگ کا شکار ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
مدارس کے قائدین کی دہائیوں کی محنت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ڈی جی آر ای کے تحت نئے تعلیمی بورڈز کی فوری مشاورت کے بعد ایک جامع پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے تاکہ اس نظام کی افادیت اور سوسائٹی ایکٹ کے نقصانات کو واشگاف الفاظ میں عوام کے سامنے لایا جا سکے۔
مدارس کی رجسٹریشن ایک دیرینہ ضرورت تھی جس کے لیے مختلف ادوار میں مدارس کی انتظامیہ, جید علما اور سیاسی لیڈران سے مشاورت کی گئی۔
شروعات میں مدارس انتظامیہ اس رجسٹریشن کے لیے قانونی پیچیدگیوں اور طویل عمل کی وجہ قائل نہ تھی سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ڈی جی آر ای وزارت تعلیم کے تحت ایک ون ونڈو نظام مرتب کیا گیا جس کے تحت کم و بیش 18000 مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں۔
مدارس بحرحال تعلیمی ادارے ہیں جو کہ وزارت صنعت کے نہیں بلکہ وزارت تعلیم کے تحت ہی آتے ہیں۔ وزارت صنعت کے تحت رجسٹریشن کا ایک مروجہ طریق کار ہے جو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ایک طویل عمل ہے۔
حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مانتے ہوئے دونوں ہاؤس سے بل کو پاس کروایا اور اپنی کمٹمنٹ کو پورا کیا۔
چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اگر بل میں کچھ وقت درکار ہے تو اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ اس کو وجہ بنا کے پورا رجسٹریشن کا عمل ہی رول بیک کر دیا جائے۔
تعلیمی ادارے وزارت تعلیم کا موضوع ہیں۔ اس مطالبے کو ماننے کا مقصد ہے کہ کل کو کوئی بھی کسی پیشہ کو کسی بھی وجہ سے کسی اور وزارت کے تحت کرنے کا مطالبہ کر دے۔ نظام ملک کچھ خواہشات نہیں بلکہ مروجہ اصول اور ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے۔
وزارت تعلیم اور ڈی جی آر ای اس عمل کو مدارس کے لیے انتہائی سہولت کار بنا چکے ہیں اور ایک مہم چلا رہے ہیں جو کہ ہر میڈیم کا استعمال کر رہی ہے اور انتہائی آسان ون ونڈو آپریشن ہے جیسا کہ اس اشتہار سے بھی واضح ہوتا ہے۔
