اسلام آباد: قومی اسمبلی سے منظور کردہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے قیام کے بل کے مندرجات سامنے آگئے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش اور قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کئے گئے نیشنل فرانزک ایجنسی کے قیام کے بل کے مندرجات میں کہا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی خدمات فراہم کرسکے گی۔
بل میں کہا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کو الیکٹرانک ڈیوائسز، ڈیجیٹل فرانزک، سائبر فرانزک، ڈیپ فیک اور دیگر الیکٹرانک اور سائبر جرائم کے فرانزک کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
بل کے مطابق قانون سازی سے ایجنسی کو بااختیار بنایا جائے گا اور فرانز کے لئے بیرون ممالک پر انحصار کو ختم کیا جا سکے گا جب کہ نیشنل فرانزک ایجنسی قیام کے ساتھ ریسرچ، فرانزک اور ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے قائم کئے جائیں گے۔
ڈیجیٹل فرانزک کا شعبہ قومی سیکیورٹی کے معاملات میں معاونت کرے گا۔ ایجنسی، لیب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سروسز مہیا کرے گی۔ ایجنسی ڈیجیٹل فرانزک مواد کو محفوظ بنائے گی اور فرانزک ایجنسی بطور ماہر عدالت کی معاونت کے لئے بھی خدمات دے گی۔
قانون کے تحت ایجنسی ایک بورڈ آف گورنرز کے تابع کام کرے گی جس کا ایک چیئرپرسن اور 4 ممبران ہوں گے۔ چیئرپرسن متعلقہ ڈویژن کا سیکریٹری ہوگا جب کہ آئی جی اسلام آباد، نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر، نیشنل پولیس بیورو کا ڈی جی شامل ہوگا جب کہ ڈائریکٹر جنرل جو سیکرٹری بھی ہوگا اور وہ بھی شامل ہوگا۔
ایک تین رکنی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ایجنسی کے مالی اور انتظامی امور کو کنٹرول کرے گی، کسی ہنگامی صورت میں بورڈ کے اختیارات کا استعمال کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
ایجنسی کے ڈی جی کو قانون کی منظوری کے بعد 6 ماہ کے اندر تقرر کیا جائے گا۔ نیشنل فرانزک ایجنسی کا ڈی جی دُہری شہریت کا حامل نہیں ہوگا۔ ڈی جی کی تقرری کے دوران وزیر اعظم کسی افسر کو بھی جو گریڈ 20 سے کم نہیں ہوگا بطور قائم مقام ڈائریکٹر جنرل تقرری کرسکیں گے۔
بل کے مقاصد میں کہا گیا ہے کہ بل کا مقصد عوامی تحفظ کو بڑھانا، قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا، مجرمانہ تحقیقات اور فرانزک سائنس میں ملک کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کا مقصد پورے پاکستان میں فرانزک صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، کلیدی اقدامات میں موجودہ روایتی فرانزک لیبز کو اپ گریڈ کرنا اور ڈیجیٹل فرانزک لیب کا قیام شامل ہے۔
