وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کوئی ایک شخص بتا دیں جس کے ساتھ بانی پی ٹی آئی نے وفا کی۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کے ترلے کررہا ہے، آج سے پہلے کسی سیاستدان نے امریکا کے ترلے نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جنگ میں جانے کا ہمارا کوئی کام نہیں تھا، پاکستان کے علاوہ سارے خطے میں امن ہوچکا ہے، اس شخص کی وجہ سے 40 ہزار بندے واپس آئے، کمیٹی بن گئی، پھیرے شروع ہو گئے، چائے بسکٹ چل رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی پی، ن لیگ میں تلخیاں ہوئیں لیکن 90 کی دہائی میں واپس نہیں گئے، ن لیگ اور پی پی نے میثاق جمہوریت کا پاس رکھا ہوا ہے، طاقت کی پوزیشن میں کوئی مذاکرات کرتا ہے تو اسکی سنجیدگی پرغور کرنا چاہیے، مجھے بتایا جائے ان مذاکرات کے پیچھے کیا راز ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اب کہتے ہیں شہبازشریف نے معیشت بحال کردی، ان لوگوں نے معیشت خراب کرنے کیلئے مامے چاچے کو لیٹر لکھے، میں مذاکرات کا مخالف نہیں ہوں، سب نے اعادہ کیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں، قومی مباحثہ ہونا چاہیے، مذاکرات سے طاقت کے مختلف مراکز میں نیا سوشل کنٹریکٹ ترتیب دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن کے بعد نوازشریف بنی گالہ گئے، شہبازشریف اپوزیشن لیڈر تھے اسوقت بھی کہتے تھے مذاکرات ہونے چاہئیں، ہم پاور میں آئے تب بھی کہتے رہے مذاکرات ہونے چاہئیں، پہلے کہتے تھے انکی کوئی اوقات نہیں جن کی اوقات ہے ہم ان سے بات کرینگے، پچھلے 15 دن میں ایسی کیا چیز ہوئی پی ٹی آئی مذکرات پر راضی ہوگئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ شہبازشریف اٹھ کر انکی سیٹوں پر گئے، نوازشریف ان کے گھر گئے، یہ ایوان میں کرسی موڑ کر بیٹھے تھے، کوئی ایک شخص بتا دیں جس کے ساتھ بانی پی ٹی آئی نے وفا کی۔
