وفاقی وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایلسنز گروپ کا دورہ کیا اور پاکستان کے پہلے مقامی تیار کردہ وینٹیلیٹر کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ یہ اڑان پاکستان کی پہلی فتح ایلسنز گروپ کے نام کرتا ہوں، بعض لوگوں نے ہماری پہچان چور ڈاکو کی ڈال دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا بیانیہ دنیا میں ایک الگ طرح سے پیش کیا گیا ہے، ہر کامیاب ملک کے چار بنیادی عوامل ہوتے ہیں: امن، پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام، اور مسلسل اصلاحات۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے 22 سال میں ہم مزید آگے بڑھیں گے اور گزشتہ 50 سال کا خلا پر کریں گے، ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں، یہ تکنیکی دور ہے جو بین الاقوامی منڈیوں کو فتح کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہماری معیشت کی کمزوری یہ ہے کہ ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے کافی برآمدات نہیں کر رہے، ہمیں 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کو عبور کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھانا ہوگا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زرعی اور صنعتی شعبوں میں بے پناہ صلاحیت اور مواقع موجود ہیں، ہمارے پاس ایندھن اور بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں لیکن سستی لیبر کے ذریعے ہم کم لاگت پروڈیوسر بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈ ان پاکستان کو ایک اعلیٰ معیار کی برانڈ کے طور پر فروغ دینا ہوگا، مقامی مصنوعات کو اعلیٰ معیار کے ساتھ جوڑنا ہوگا، یہ ہمارے “اڑان پاکستان” کی عملی تشریح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پیچیدہ وینٹیلیٹر بن سکتا ہے تو آپ تصور کریں کہ ہمارے ملک میں کتنا پوٹینشل ہے، یہ ایک بنیادی ضرورت ہے جو اہم مریضوں کو امید فراہم کرتی ہے، پاکستان بھی آج آئی ایم ایف کے وینٹیلیٹر پر کھڑا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ اس سے نکلنے کے لیے میں پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ کھڑا ہوں تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں ایکسپورٹ لیڈ گروتھ مل سکے، اسی کے ذریعے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
