Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں، کسی اور صوبے میں ترقی ہورہی ہے تو لوگ وہاں کیوں نہیں جارہے؟ پورے پاکستان کی تجارت کراچی سے چل رہی ہے، سندھ کا سیلز ٹیکس حکومت کو نہیں دیا جارہا، سندھ حکومت کے اربوں روپے کیوں نہیں دیے جارہے؟

انہوں نے کہا کہ سندھ کے علاوہ کہیں اور 21 لاکھ گھروں کی اسکیم شروع کی گئی؟ کسی اور صوبے میں بے گھر لوگوں کے لیے اسکیم شروع کی گئی؟ ہمیشہ پیپلز پارٹی کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ترقی کا مطلب صرف سڑک بنانا نہیں ہے، سندھ میں لاکھوں افراد کو مفت سولر سسٹم دے رہے ہیں، باقی کس صوبے میں لوگوں کو مفت سولر سسٹم دیا جارہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے مریض علاج کے لیے سندھ آتےہیں، سب سے زیادہ قیمتی سڑک نہیں بلکہ انسان کی جان ہے، سندھ کے ساتھ  وفاق کی اسکیموں میں زیادتی کی گئی، پورے پاکستان کی اصل ضرورت انرجی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ تھر کے کوئلے سے سستی بجلی بن رہی ہے، کوئی صوبہ سندھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا، سندھ کو وفاق کی اسکیموں کا شیئر کم ملا، تھر میں بجلی کا پراجیکٹ سب سے منفرد ہے، تھر سے پورے پاکستان کو کوئلہ مل رہا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ آج پبلک سیکٹر میں 30 یونیورسٹیز موجود ہیں، کوئی بھی بیوروکریٹ جس نے ماسٹر کیا ہو وہ وی سی بن سکتا ہے، مظہر صدیقی سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، مظہر صدیقی بھی سابق بیوروکریٹ تھے، موجودہ نظام کے تحت کوئی بھی پروفیسر وی سی مقرر ہوسکتا ہے، سندھ حکومت شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں اس وقت سیریس تضاد موجود ہیں، اندر بیٹھ کر جو شخص سمجھ رہا ہے باہر حالات اچھے ہیں تو ایسا نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کس کو پارٹی میں رکھتے ہیں اور کسے نہیں یہ انکا اختیار ہے، ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی بات چیت کرے، مسائل کو حل کرے، پی ٹی آئی کی پاکستان کے خلاف جو بیرونی سازشیں ہیں اسکو بند کرے، بانی پی ٹی آئی بیرونی پروپیگنڈا بند نہیں کریں گے انکے مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگوں میں مخالفین ہوتے ہیں، کوئی یہ سمجھے کہ میں سیاست کروں اور مخالفت بھی نہ ہو تو وہ ڈکٹیٹر لوگ ہیں، کھلے عام کہتے ہیں لوگ ہمیں بُرا بھلا بھی کہیں گے، اچھے کام پر اچھا بھی کہیں گے، ہمیں آخر میں جانا ہےعوام کی عدالت میں اور وہ عدالت الیکشن میں لگتی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کراچی میں تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے والوں کے ساتھ ہوں، حکومت کو کراچی کے مسائل کا پتا ہے، چاہتے ہیں شہر ترقی کرے، ذاتی مفاد کیلئے کسی کو بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہے، یونیورسٹیز میں احتجاج چل رہے ہیں اور تددریسی عمل کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کی کلاسز نہیں چل رہیں تو آپ انکے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version