Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی پیکا ترمیمی بل منظور

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پیکا ترمیمی بل منظور کرلیا۔

پیکا ترمیمی بل اب صدر مملکت کو منظوری کےلیے بھجوایا جائیگا، جبکہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد بل قانون بن جائیگا۔

پارلیمانی صحافیوں کا اجلاس سے واک آؤٹ

متنازعہ پیکا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن ارکان طیش میں آگئے، احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے واک آؤٹ کردیا۔

پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان میڈیا لابی میں پہنچ گئیں جہاں انہوں نے صحافیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا کی آواز دبانے کی حق میں نہیں ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پیکا قانون ویسے بھی خراب قانون  تھا یہ ترامیم ہیں، کوشش ہونی چاہے ان قوانین کا غلط استعمال نہ ہوسکے، ہم کوشش کریں گے کہ مزید ترامیم لائی جاسکیں، ہمیں کہا گیا تھا یہ ترمیمی بل مشاورت سے لایا جائے گا جو نہیں ہوئی۔

شیری رحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نہیں ملتی لیکن پیپلزپارٹی اس بارے میں صحافیوں سے لازمی مشاورت کرے گی، اس وقت ماحول ہے کہ بس بل پاس ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون مس یوز اور غلط استعمال کے لیے نہیں بنائے جاتے ہیں، قائمہ کمیٹیوں میں اس پر غلط طریقہ سے مشاورت ہوئی ہے، عجلت میں یہ بل لایا گیا ہے۔

 شیری رحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اس پر مزید ترامیم لا سکتی ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھیں گے۔

شیری رحمان کے مطابق اس موقع پر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سینیٹر شیری رحمان کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔

شیری رحمان نے مزید یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس قانون میں مزید ترامیم لائی جائیں، میری نظر میں یہ شہریوں کے حقوق ہیں۔

ترمیمی بل کی تفصیلات

سینیٹ سےمنظور کیے گئے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کی تفصیلات سامنے آگئی۔

ترمیمی بل کے مطابق نئی شق 1 اے کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کئے جائیں گے۔

ترمیمی بل میں بتایا گیا کہ اتھارٹی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کرے گی، اس کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کی مجاز ہو گی، اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی۔

ترمیمی بل میں بتایا گیا کہ پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کاروائی کی مجاز ہو گی، اس کے علاوہ اتھارٹی متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔

ترمیمی بل کے مطابق سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں  پر فرد 24 گھنٹے میں  درخواست دینے کا پابند ہو گا، اتھارٹی کل 9 اراکین پر مشتمل ہو گی۔

 ترمیمی بل میں بتایا گیا کہ سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا اتھارٹی کے ایکس آفیشو اراکین ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور متعلقہ فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ کار اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جا سکے گا، چیئرمین اور پانچ اراکین کی تعیناتی پانچ سالہ مدت کے لیےکی جائے گی۔

 حکومت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے، نئے ترمیمی بل کے مطابق پانچ اراکین میں دس سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ ویئر انجنئیر بھی شامل ہوں گے، اس کے علاوہ اتھارٹی میں ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version