فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے اسٹیل اسکریپ اور لوہے کے درآمدکنندگان سے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی سہولت واپس لے لی ہے۔
ایف بی آر نے کسٹم رولز 2001 میں ترامیم کرکے ایس آر او 204 /2025 جاری کردیا، جبکہ سہولت واپس لینے کا مقصد بڑے پیمانے پر ای ایف ایس کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
ایک ٹیکس ماہر کی رائے ہے کہ ای ایف ایس سے اسٹیل اور لوہے کے اسکریپ کو خارج کردیا گیا ہے، اب کمپریسرز، موٹرز کے درآمدکنندگان کو کسٹم، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ادا کرنا ہوں گے۔
مزید براں، درآمدکنندگان اسکریپ مقامی مارکیٹ میں فروخت کریں گے تو وہ سیلز ٹیکس انوائسز جاری نہیں کرسکیں گے، اس سے ٹیکس چوری کے دروازے بند ہوجائیں گے۔
اس طرح وہ یونٹس جو کمپریسرز، موٹر اسکریپ کے درآمد کنندگان سے فلائنگ انوائسز خریدنے میں ملوث ہیں ان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
ٹیکس ماہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی اسکریپ یا کمپریسر اسکریپ خریدیں گےتو پورا 18 فیصد سیلز ٹیکس دینا ہوگا، ای ایف ایس میں مجوزہ تبدیلیوں میں ان پٹ استعمال کی مدت میں کمی کی گئی ہے۔
بین الاقوامی ٹینڈرز پر فراہمی یا پاکستان میں منصوں کو استثنی دینے کے لیے صارف کو ویبوک سسٹم میں ڈیکلیئر کرنا ہوگا۔
ٹیکس ماہر کے مطابق نئے قوائد کے تحت درخواست دہندہ کیس کلیئر نہیں کرپاتا تو اس کا اجازت نامہ کاروبار کا معطل کردیا جائے گا۔
