پاکستان کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کی موجودہ حالت، ماضی کی اڑانوں اور مستقبل کے ترقیاتی سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے اور یہ چوتھی بار اڑان بھرنے جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی معیشت کے اُتار چڑھاؤ کو اجاگر کیا اور بتایا کہ ہم نے 1960 میں پہلی بار اڑان بھری، 1991 میں دوسری بار اور نواز شریف کی اصلاحات کی بدولت اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا تو ہم آج ملائیشیا سے بھی آگے ہوتے۔
احسن اقبال نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہیں رہا، جس کا اثر معیشت پر پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں پاکستان نے “ویژن 2025” کا آغاز کیا تھا، اور اگر یہ ویژن برقرار رہتا تو 2030 تک پاکستان دنیا کی ٹاپ اکانومیز میں شامل ہوتا۔
وفاقی وزیر نے اپریل 2022 کے حالات کا ذکر کیا، جب پاکستان ڈیفالٹ کرنے کے قریب تھا، لیکن پی ڈی ایم حکومت نے اس مشکل صورتحال سے ملک کو نکالا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے حکومت نے سخت فیصلے کیے، جس سے عوام میں پذیرائی کم ہوئی لیکن یہ فیصلے ملک کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے ضروری تھے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ایک سال کے اندر پالیسی ریٹ کو 23 فیصد سے 12 فیصد پر لایا گیا، اور اسٹاک مارکیٹ نے 40 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ پوائنٹس تک پہنچنے کا سفر طے کیا۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کا پاکستان میں اعتماد آہستہ آہستہ بڑھا ہے۔
تاہم، وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اب اصل چیلنج پاکستان کی معاشی اڑان کو پائیدار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی تاریخ کو نہیں دہرایا جانا چاہیے اور اس کے لیے امن و استحکام ضروری ہے تاکہ ملک ترقی کر سکے۔
پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹس میں کمی آئی ہے، اور 200 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ سے 30 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی پیٹرن بدل چکا ہے، اور پاکستان کو سالانہ 10 ارب ڈالر کی اڑان بھرنی ہوگی۔
وزیر نے اس بات کا ذکر کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر پاکستان کی معاشی اڑان کا پائلٹ ہے، اور اس کے ساتھ مل کر ہمیں توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا، ٹیکس کولیکشن کو بڑھانا اور ایکسپورٹس میں اضافہ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں کمی کی کوشش کی ہے، اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تین کمپنیوں نے بجلی کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو کم وسائل سے زیادہ پیداوار کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر پیداواری شعبہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہمیں ٹیکنالوجی کے ہم پلہ رہنا ہوگا۔ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ملک کی معاشی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔
احسن اقبال نے پانی کے عالمی مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا میں پانی اب کہیں بھی فری کمبوڈیٹی نہیں رہا۔ پاکستان کو پانی کے بحران کا سامنا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ترقی کے نئے سفر پر گامزن ہے اور ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے محنت، عزم اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
