اسلام آباد: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ معیشت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے چین کے باؤ فورم کے دوران عالمی اشاعتی و نشریاتی جریدے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملکی برآمدات کو بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس حوالے سے جلد ہی وزیر اعظم کی طرف سے اعلان متوقع ہے، اس اقدام سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آنے والے وفاقی بجٹ میں ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے پر توجہ دی جائے گی، ریئل اسٹیٹ، ریٹیل اور زراعت جیسے شعبوں کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے گا، ٹیکس بنیادوں کو وسعت دے کر مینوفیکچرنگ سیکٹر پر غیر ضروری ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا ہے، مینوفیکچرنگ سیکٹر اب تک ٹیکس کا بڑا حصہ ادا کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے مہنگائی کے رجحانات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ مجموعی اور بنیادی مہنگائی کی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس سال کے دوران شرح سود میں مزید کمی متوقع ہے، شرح سود میں کمی سے اقتصادی ترقی کے لیے حالات مزید بہتر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کیلنڈر سال میں پہلا چینی یوان بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یوان بانڈ کی مالیت 200 سے 250 ملین ڈالر کے درمیان ہوگی، بانڈ کا حجم اہم نہیں بلکہ فنڈنگ ذرائع میں تنوع مقصود ہے، اس فنڈ کا استعمال موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں کے لیے کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد امریکہ، یورپ اور اسلامی سکوک کی روایتی منڈیوں سے ہٹ کر مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانا ہے، یہ ایک موزوں وقت ہے کہ پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹ سے فائدہ اٹھائے۔
