قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کو جوابی کارروائی کا اختیار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں گزشتہ رات کی بھارتی جارجیت اور پاک فوج کے دندان شکن جواب اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تمام وفاقی وزرا، تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاجی مراسلہ تھما دیا گیا
ذرایع کے مطابق اجلاس میں پاک بھارت کشیدگی اور موجودہ حالات کےحوالےسےکمیٹی کوبریف کیاگیا۔
اجلاس میں بھارت کو بھرپور جواب دینے پر کمیٹی کی جانب سے پاک فوج کے کردار کو سراہا گیا، جبکہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا، اس کے علاوہ سفارتی اقدامات، عالمی برادری سےرابطوں اور اس کے حوالے سےمشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارتی حملوں، پاکستان کی جوابی کارروائی اورخطےمیں بڑھتی کشیدگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران عسکری حکام نے بھارتی حملوں اور پاکستانی جوابی کارروائی پر قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے حملوں کا فوری جواب دےکربھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارت نے نیلم جہلم منصوبے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے آپریشنل تیاریوں اور جوابی ردعمل پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے بھارت کو بھرپور جواب دینے پر پاک افواج کو شاباشی دی۔
سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت کا فوری، موثر اور منہ توڑ جواب دینے پر پاک افواج کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا۔
ذرایع نے بتایا کہ دوران اجلاس فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والا دشمن کسی بھول میں نہ رہے، بھارت کو دفاعی، سفارتی اور عوامی سطح پر ناکامی کا سامنا رہا ہے، اجلاس کے شرکاء کو بھارتی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اجلاس کے دوران کہا کہ ساری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ ہے، پاکستان کی خود مختاری سالمیت، وقار پرکوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
اعلامیہ جاری
اجلاس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے معصوم شہریوں کی شہادت پرفاتحہ خوانی کی اور شرکاء نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بھارت کی بزدلانہ کارروائی پرغور کیاگیا، بھارت نےپاکستان کےمتعددعلاقوں مظفرآباد، کوٹلی، سیالکوٹ، بہاولپورمیں مختلف مقامات کونشانہ بنایا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی، بھارت نے 6/7 مئی کی رات پاکستانی حدود میں میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے، حملوں میں سیالکوٹ، شکر گڑھ، مریدکے، بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مساجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا، ان حملوں سے خلیجی ممالک کی کمرشل پروازوں کو بھی خطرہ ہوا، اس کے علاوہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جھوٹے الزامات لگا کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے 22 اپریل کے بعد غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تھی جو بھارت نے مسترد کی، بین الاقوامی میڈیا نے 6 مئی کو مبینہ دہشت گرد کیمپوں کا دورہ کیا، مزید دورے 7 مئی کو متوقع تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت نے کسی ثبوت کے بغیر معصوم شہریوں پر حملے کیے، پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کیا، بھارت نے خطے میں آگ لگائی، پاکستان نے اپنی حدود کا دفاع کیا، 5 بھارتی طیارے اور ڈرون مار گرائے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے، معصوم شہریوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، پوری قوم مسلح افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے، عالمی برادری بھارتی غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے، پاکستان باعزت امن کا خواہاں ہے، اپنی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہبازشریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کےبعدقوم سےخطاب کریں گے۔
