اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر اعتراض اٹھادیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے حکومتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اسے قومی خزانے کے استحصال سے تعبیر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر سخت ردعمل دیا۔
یہ مالی فحاشی کا سلسلہ یکم جنوری 2025 سے شروع ھونا ھے یہ نوٹیفکیشن کا حصہ ھے۔ قومی خزانے کے استحصال کی انتہا ھے ۔ ایک یا دو اشخاص اپنے عہدوں کی نسبت سے اپنی ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز ایک MNA سے چار گنا بڑھا لیں اور ذمہ داری حکومت پہ ڈال دیں۔قومی اسمبلی کے ادارے کی قدرو منزلت کا… https://t.co/qzYniLXSWa
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 2, 2025
وزیر دفاع نے کہا ’’یہ مالی فحاشی یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہونے جا رہی ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے‘‘۔
خواجہ آصف نے کہا ’’قومی اسمبلی کے نگہبان اگر خود اسمبلی کی قدر و منزلت کا خیال نہ رکھیں تو پھر عوام کس سے توقع کریں؟‘‘۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر اسپیکر، چیئرمین سینیٹ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اپنی ماہانہ تنخواہیں اور الاؤنسز ایک عام رکنِ اسمبلی (ایم این اے) سے چار گنا بڑھا لیتے ہیں تو اس کے ذمہ دار کون ہیں اور کیا یہ حکومت کے کھاتے میں ڈال دینا کافی ہے؟‘‘۔
وزیر دفاع نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے فیصلوں پر ازسر نو غور ہونا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد بحال رکھا جا سکے اور ایوان کی ساکھ پر کوئی سوال نہ اٹھے۔
