Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان میں پہلی بار ’ریبیز ویکسین‘ مقامی سطح پر تیار

کراچی: پاکستان میں طب و تحقیق کے میدان میں اہم پیش رفت، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پہلی بار مقامی سطح پر انسانی استعمال کے لیے ریبیز کی مکمل ویکسین تیار کر لی ہے۔

یہ ویکسین “پیوڑفائیڈ، انیکٹیویٹیڈ، لیوفلائزڈ” فارمولے پر مبنی ہے اور اسے پاکستان میں پائے جانے والے مقامی ریبیز وائرسز سے تیار کیا گیا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق یہ پاکستان کی پہلی مکمل طور پر تیار شدہ انسانی ویکسین ہے، تاہم اس وقت ویکسین کے ابتدائی بیچز کلینیکل ٹرائلز کی منظوری کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔

یونیورسٹی نے 2024 میں “DOW Rab” کے نام سے ریبیز ویکسین کی ابتدائی خوراکیں تیار کیں، جن کی تعداد 30,000 تھی، اب مزید 1,70,000 خوراکیں تیار کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

پاکستان میں ہر سال ریبیز ویکسین کی تقریباً 20 لاکھ خوراکیں درآمد کی جاتی ہیں، جس سے قومی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے، مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے توقع کی جا رہی ہے کہ 2031 تک اس مالیاتی دباؤ میں نمایاں کمی آجائے گی۔

حکام کے مطابق اس ویکسین کا بنیادی استعمال دیہی اور پسماندہ علاقوں میں کیا جائے گا، جہاں کتے کے کاٹنے کے واقعات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں اور بروقت ویکسین کی دستیابی ایک چیلنج بنی رہتی ہے۔

ریبیز ویکسین کی روایتی شکل میں کمرشل پیداوار 2024 میں ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم 2025 میں پہلی بار جدید، مکمل انسانی ویکسین کی تیاری ممکن ہوئی ہے۔

کلینیکل ٹرائلز کی کامیابی اور ریگولیٹری منظوری کے بعد اس ویکسین کو ملک گیر سطح پر تقسیم کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version