اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی کیلئے چھوٹے کسانوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت زرعی ترقی اور ایگری فنانسنگ سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی اور آسان قرضوں کی دستیابی پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی کارکردگی، قرضوں کی فراہمی اور زرعی شعبے کی جاری اصلاحات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دوران اجلاس وزیراعظم نے درمیانے اور چھوٹے پیمانے کی زرعی سرگرمیوں کیلئے آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل طلب کرلیں
اس موقع پر وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پاکستان کی ترقی براہِ راست زرعی شعبے کی بہتری اور کسانوں کی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن سے جڑی ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جدید زرعی آلات، معیاری بیج، مصنوعی ذہانت اور پانی کے مؤثر استعمال جیسے شعبوں میں کسانوں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی پیش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے متعلق چھوٹے پیمانے کی صنعتی مشینری تک کسانوں کی رسائی کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ برآمدات کے قابل مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی شعبے میں اصلاحاتی عمل کو تیز کر رہی ہے، جس میں کسانوں کو تربیت، مالی معاونت اور مشینری کی فراہمی شامل ہے، ان اصلاحات کا مقصد کسانوں کو مارکیٹ سے جوڑنا اور برآمدات کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں ماہ کے اختتام تک کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور ایگری فنانسنگ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی پیش کی جائے۔
واضح رہے کہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد علی (مشیر وزیراعظم)، وزرائے مملکت بلال اظہر کیانی، عبدالرحمن کانجو، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
