بحری جہاز اونر 25 پر صومالی قزاقوں کے حملے کے بعد 11 پاکستانی شہری یرغمال بنائے جانے کا معاملہ تشویشناک رخ اختیار کر گیا ہے جبکہ متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کر دی ہے۔
متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ کے مطابق قزاقوں کے قبضے کے بعد سے یرغمالیوں سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جہاز عمان سے فجیرہ کی جانب روانہ تھا کہ راستے میں اسے اغوا کر لیا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اب تک حکومتی سطح پر کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم گورنر سندھ نے فون پر رابطہ کرکے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امین شمس 2 بچوں کے والد ہیں جن میں 3 سال کی بیٹی اور 4 ماہ کا بیٹا شامل ہیں۔
اسی طرح سید کاشف 4 بچوں کے والد ہیں جبکہ عمران کی 2 بیٹیاں اور حسین کے 3 بچے ہیں، حسین کا 9 سالہ بیٹا شبیر اپنے والد کی واپسی کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے اونر 25 نامی بحری جہاز پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کے عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں۔
