Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایم کیوایم کے بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کی زندگی کے آخری 154 دن

عظیم احمد طارق کو اپریل اور یکم مئی 1993 کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا۔

آج مہاجر قومی موومنٹ کے 46 سالہ بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کی 33 ویں برسی ہے۔ انہیں 30 اپریل اور یکم مئی 1993 کی درمیانی شب تین بجے کے قریب نامعلوم افراد نے گھر واقع بلاک 15 ایف بی ایریامیں اہل خانہ اورتین سیکورٹی گارڈز کی موجودگی میں سوتے ہوئے قتل کردیا تھا۔

  1978میں اے پی ایم ایس او اور 18 مارچ 1984 کو قائم ہونے والی مہاجر قومی موومنٹ نے ان کی زندگی میں ایک بلدیاتی دو عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پارٹی کے خلاف پہلے سخت آپریشن کا پارٹی کارکنوں کے ساتھ روپوشی میں اور اس کے بعد سامنا کیا۔

19 جون 1992 کی درمیانی شب سے شروع ہونے والا آپریشن میں ایم کیو ایم کی پوری قیادت میئر، وفاقی وزرا، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی صوبائی وزرا، منتخب سینیٹر، رکن قومی وصوبائی اور کونسلرز حکومتی حصہ ہونے کے بعد بھی غیرمعینہ مدت کے لیے روپوش ہوگئے تھے۔

20 جون 1992 کے اخبارات میں صرف عظیم طارق کا دوسطری بیان شائع ہوا جس میں اپیل تھی عوام پرامن رہیں کوئی گولی نہیں چلے گی تاہم اس کے برخلاف اس آپریشن میں گرفتار یا برآمد ہونے کارکنان اور رہنما کو یک طرفہ میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ کی شہری سیاست کا کڑا وقت تھا حالات کی سنگینی کا اندازہ چار نومبر 1992 کی ایم کیو ایم کی قائم کردہ چیئرمین عبدالوحید کے زیرنگرانی مظلوم ایکشن کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق 19 جون 1992 سے 30 اکتوبر 1992 تک 7 ہزار سے زائد کارکن گرفتار، 411 کارکن قتل 3500 کارکن اغوا ، جس میں سے 350 قبضہ گروپ کے پاس اور 1000 سے زائد کارکن جیل میں ہیں۔

اس دوران 14 ہزار گھروں پر چھاپے مارے گئے تشدد زدہ 40 سے زائد زخمی کارکن اسپتال میں زیرعلاج ہیں اور دوران چھاپہ لاکھوں روپے کا سامان لوٹ لیا گیا ان حالات میں 28 نومبر 1992 کو 5 ماہ کی روپوشی کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس میں عظیم احمدطارق منظرعام پرآگئے۔

پریس کانفرنس رکن صوبائی اسمبلی حاجی شفیق الرحمن کی ٹیپوسلطان روڈ میں واقع رہائش گاہ میں تھی اس دوران وہ بات کرتے ہوئے رو پڑے تھے ان کاکہنا تھا وہ بیمار ہیں ان کے دل کے دو والو بند ہیں انہوں نےصرف مہاجر عوام کے مستقبل، شہر کو خون خرابے سے بچانے ملک کی سلامتی کے خاطر ذاتی فیصلہ کرکے ایم کیو ایم کی قیادت سنبھالی ہے۔

دوسری طرف ان کے اچانک منظر عام پر سینیٹر ماسٹر علی حیدر اورمیئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے اغوا کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئےکہا تھا کہ حالات بہتر بنانے کے لیے ہماری اعلیٰ حکام سے پانچ میٹنگز ہوچکی تھیں اگلی میٹنگ عظیم احمد طارق اور ایک اعلیٰ شخصیت کے درمیان ہونی تھی۔

26نومبر1992 کو عظیم طارق نے ایک اعلیٰ افسر سے ملاقات کی تاہم نئی پریس کانفرنس کے بعد وہ تشویش میں مبتلا تھے۔
162 دن کی روپوشی میں رہنے والےعظیم احمد طارق منظر عام پر آنے کے 154 دن بعد ہی قتل کردئے گئے اگر اس زمانے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے عظیم طارق کے منظرعام پر آنے کے بعد ایم کیو ایم کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا تھا۔

جنرل سیکریٹری عمران فاروق اور سلیم شہزاد کے علاوہ پاکستان میں موجود تمام مرکزی رہنما اور کارکن ایک ایک کرکے منظر عام پر آچکے تھے۔

29 نومبر کو ڈپٹی میئر عبدالرازق خان، تین دسمبر کو زریں مجید، ایس ایم طارق، سینیٹر زاہد اختر اور دو ایم پی اے مرزا شاہد بیگ، ڈاکٹر ایوب شیخ، عظیم شوکت، 6 دسمبر کو رکن اسمبلی سلیم احمد خان اور اظہار الدین خان، ایس ایم اسلم، شاہد میاں وائس چیئرمین طارق جاویدمنظر عام پر آچکے تھے۔

اسی طرح 28دسمبر کو ڈاکٹر عشرت العباد، بلدیہ وسطی کے سابق وائس چیئرمین الطاف کاظمی، لیبر ڈویژن کے محمد اسلم اور غیاث، 20 جنوری کو فاروق ستار، سابق ڈپٹی میئر متین یوسف، عارف خان ایڈوکیٹ، رفیق عیسانی محمد حسین، شعیب بخاری ایڈوکیٹ، لطیف، بدرالزماں الطاف احمد، سلیم یوسف، زاہد قریشی، خالد مقبول صدیقی، عارف خان ایڈوکیٹ اور دیگر سینکڑوں کارکن اپنے گھروں کو واپس آگئے تھے۔

 ایم کیوایم کے لیے صورت حال بھی نسبتاً پرسکون تھی اس دوران ایم کیوایم اور ایم کیو ایم حقیقی کے کارکنوں کے قتل کے تین واقعات ہوئے پہلا قتل تین دسمبر 1992 کو حقیقی کے 25 سالہ کارکن قاسم آغائی انہیں پانچ دن قبل گھر سے اغوا کے بعد تشدد زدہ لاش گلشن اقبال سے ملی تھی دوسرا واقعہ 4 جنوری 1993 کو پاک کالونی میں ہواجب ایم کیوایم کے کارکن سابق حق پرست کونسلر جاوید منظور ان کے بھائی نوید منظور جاوید ٹونی، ظفر اور سعید روپوشی ختم کرکے علاقے میں داخل ہوئے تو حقیقی گروپ نے فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا تھا۔

تیسرا واقعہ تین فروری 1993 کو ہوا جب ایم کیو ایم حقیقی کا کارکن ریحان خان ترین کو دستگیر میں نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا۔

عظیم احمد طارق پارٹی کے خلاف ہونے والے پہلے آپریشن میں 316 دن حیات رہے جس میں 162 دن روپوشی میں اور 154 دن منظر عام پر آنے کے بعد پارٹی کارکنان کے لیے مصروف رہے۔

تاہم انہیں زندگی کے آخری دنوں میں شدیدسیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ روپوشی ختم کرنے کے بعد زندگی میں دوبارہ ایم کیو ایم ہیڈ کوارٹر 90 واپس نہیں گئے ان ہی کی زندگی میں پارٹی امور چلانے کے لیے سینیٹر اشتیاق اظہر کے زیرقیادت 12 رکنی رابطہ کمیٹی قائم کردی گئی تھی۔

رابطہ کمیٹی کے ذریعے پارٹی امور چلانے کا یہ سیٹ اپ 2016 تک قائم رہا تھامرحوم عظیم طارق نے روپوشی ترک کرنے بعد کہا تھا کچھ ہوجائے وہ زندگی میں دوبارہ کبھی روپوش نہیں ہوں گے بات کے پکے تھے اس لیے ان کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی اللہ غریق رحمت کرے۔آمین

متعلقہ خبریں

Exit mobile version