سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کے بعد فتنہ الخوارج معصوم شہریوں کونشانہ بنانے لگے۔
چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں خوارج کی جانب سے جیدعالم دین شیخ محمد ادریس کوشہید کردیا گیا بزدلانہ حملہ اس وقت ہوا جب مولانا شیخ محمد ادریس اپنےمدرسے کی جانب جارہے تھے۔
عوام کی جانب سے مولانا شیخ محمد ادریس کے اس بہیمانہ قتل پر شدید غم وغصے کااظہار کیاجارہا ہے عوامی حلقوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کی ناکامی پرکڑی تنقید کی جارہی ہے۔
شیخ محمد ادریس کی شہادت پہلا واقعہ نہیں اس سےقبل بھی فتنہ الخوارج دین مدارس اورسیاسی رہنماوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
21جولائی 2025 کو چارسدہ تھانہ تنگی حدود میں فتنہ الخوارج نے فائرنگ کرکےمعروف مذہبی رہنما پیر ابراہیم کو شہید کیا تھا۔
10جولائی 2025کو باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمامولانا خان زیب کوبھی فتنہ الخوارج نے شہید کردیا تھا
14مارچ 2025 کو جنوبی وزیرستان میں ایک مسجد پر خودکش حملے کے نتیجے میں جےیوآئی کےضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم زخمی ہوئے تھے
28فروری میں اکوڑہ خٹک میں دارلعلوم حقانیہ کی مسجد کو نشانہ بنایا گیاجس میں جےیوآئی رہنما حامدالحق حقانی شہید ہوگئے
ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج اپنے افغان طالبان اور ہندو آقاوں کے ایما پر سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں سیکیورٹی ادارے فتنہ الخوارج کی ان مذموم کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ علمائے کرام پرفتنہ الخوارج کے پے درپے حملے ان کے غیراسلامی اورانسانیت کا دشمنِ ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔
