28 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت نے کوششیں شروع کر دیں ہیں تاہم اس میں نئے صوبوں کا معاملہ زیر بحث نہیں آئے گا۔
ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے لیے قانون سازی رواں ماہ شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت کی نئی آئینی ترمیم کے لیے خیر رسمی مشاورت جاری ہے۔
صدر و وزیراعظم کی حالیہ ملاقات میں بھی آئینی ترمیم پر گفتگو ہوئی اسپیکر سردار ایاز صادق کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ترمیم پر اتفاق رائے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاہم سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے 28 ویں ترمیم پر تحفظات برقرار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں مسلسل غیر معمولی مشاورتی عمل جاری ہے۔
28 ویں ترمیم میں اہم قانون سازی خصوصاً این ایف سی ایوارڈ و دیگر امور کے بارے میں قانون سازی کی تجاویزہیں تاہم نئے صوبوں کا معاملہ 28 ویں ترمیم میں زیر بحث نہیں آئے گا۔
ذرائع کے مطابق مکمل اتفاق رائے کی صورت میں 21 مئی کو آئینی ترمیم لانے کی تجویز ہے جس کے لیے اراکین پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
