چار سے بارہ سال کی عمر کے معصوم بچوں کا ایک ٹیوشن سینٹر کی گری ہوئی چھت تلے جان سے چلے جانا محض ایک افسوس ناک حادثہ نہیں بلکہ یہ قومی سطح پر ایک گہری ناکامی کی تلخ یاد دہانی ہے۔ یہ حکمرانی، قانون پر عمل درآمد، شہری ذمہ داری اور انسانی جان کی قدر کرنے میں ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بچے کسی خطرناک تعمیراتی مقام پر نہیں جارہے تھے بلکہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان کے والدین کو یقین تھا کہ جس عمارت میں ان کے بچے جارہے ہیں وہ محفوظ ہے۔ انہیں یہ بھی اعتماد تھا کہ کوئی نہ کوئی ادارہ ضرور موجود ہوگا جس کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ ایسی چھت کے نیچے نہ بیٹھے جو اس کی قبر بن جائے لیکن یہ اعتماد ٹوٹ گیا۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس عمارت کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی تھی؟
پاکستان میں اداروں کی کمی نہیں۔ ملک بھر میں عمارتوں کی نگرانی کے لیے متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت عمارتوں کی نگرانی کے شعبے قائم ہیں جن کی ذمہ داری تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور نگرانی ہے۔ اسی طرح صوبائی اور شہری سطح پر بھی ادارے موجود ہیں، جیسے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی۔
ان اداروں کا کام تعمیراتی نقشوں کی منظوری دینا، تعمیراتی معیار پر عمل درآمد یقینی بنانا، زمین کے استعمال کو منظم کرنا، خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنا اور غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ قوانین موجود نہیں بلکہ یہ ہے کہ قوانین اکثر صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں، منظوری ایک لین دین بن جاتی ہے، معائنے محض رسمی کارروائی رہ جاتے ہیں اور قانون پر عمل درآمد اکثر اس وقت ہوتا ہے جب قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہوتی ہیں۔
ایک مہذب معاشرہ کسی عمارت کے گرنے کا انتظار نہیں کرتا، دنیا بھر میں عمارتوں کی حفاظت کو مسلسل ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ کوئی عمارت برسوں پہلے تعمیر ہوئی تھی، اسے ہمیشہ محفوظ نہیں سمجھ لیا جاتا۔ اس کی مضبوطی، آگ سے تحفظ، بجلی کے نظام، ہنگامی راستوں اور عوامی تحفظ کے معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ متعلقہ ادارے ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں، معائنہ کرتے ہیں، مالکان اور ماہرین کو جوابدہ بناتے ہیں اور خطرناک عمارتوں کو حادثے سے پہلے ہی ختم کردیتے ہیں۔
پاکستان میں اس کے برعکس لاکھوں لوگ ایسی عمارتوں میں رہتے اور کام کرتے ہیں جن کی حفاظتی حیثیت معلوم ہی نہیں۔ پرانے گھروں کو اسکول بنادیا جاتا ہے، رہائشی عمارتوں میں تجارتی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں، بغیر کسی فنی جانچ کے مزید منزلیں تعمیر کردی جاتی ہیں، بجلی کے نظام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، ہنگامی راستوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ پھر جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ایک ایسے نظام کی تعمیر کے بجائے افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
یہی حکمرانی کا اصل بحران ہے۔ حکمرانی صرف محکموں، دفاتر اور قوانین کے وجود کا نام نہیں بلکہ ریاست کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ قوانین کا یکساں اطلاق ہر شہری پر کرے، چاہے وہ طاقتور ہو یا عام، امیر ہو یا غریب۔
یہی ناکامی ہماری روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد یکساں نہیں۔ غلط سمت میں گاڑی چلانا، غیر قانونی پارکنگ اور خطرناک ڈرائیونگ روزانہ ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
اسی طرح بجلی کا نظام بھی اس کی مثال ہے۔ گلیوں میں لٹکتی ہوئی تاریں، ضرورت سے زیادہ بوجھ، ناقص دیکھ بھال اور غیر قانونی کنکشن آگ لگنے، کرنٹ لگنے اور جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہمارے شہروں میں بھی غیر منصوبہ بند آبادیاں، بند نالیاں، ابلتا ہوا گندا پانی، تجاوزات، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص عوامی سہولتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ غفلت معمول بن چکی ہے۔
مسئلہ صرف بنیادی ڈھانچے کا نہیں بلکہ شہری نظم و ضبط میں کمی کا بھی ہے۔ کوئی قوم اپنی تمام ذمہ داریاں حکومت پر نہیں ڈال سکتی لیکن حکومت بھی اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔ جدید ریاست اسی لیے قائم ہوتی ہے کہ اگر ہر چیز افراد کی مرضی پر چھوڑ دی جائے تو بے ترتیبی اور خطرات جنم لیتے ہیں۔ مہذب معاشرے مضبوط نظاموں پر قائم ہوتے ہیں، ایسے نظام جو شہریوں کی حفاظت کریں، چاہے بعض افراد اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں۔
ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن صفائی ذمہ داری کا صرف ایک پہلو ہے۔ ایمان کا اظہار تعمیرات میں دیانت داری، پڑوسیوں کے حقوق، عوامی مقامات کے احترام اور انسانی جان کے تحفظ میں بھی ہونا چاہیے۔ کوئی معاشرہ روحانی مضبوطی کا دعویٰ نہیں کرسکتا اگر وہاں بچے غیر محفوظ عمارتوں میں تعلیم حاصل کریں، مریض غیر محفوظ اسپتالوں میں جائیں اور خاندان ایسی عمارتوں میں رہیں جو کسی بھی وقت گرسکتی ہوں۔
ایسے حادثات کا صدمہ صرف متاثرہ خاندانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ ہر والدین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا میرا بچہ اسکول میں محفوظ ہے؟ کیا ٹیوشن سینٹر محفوظ ہے؟ کیا جس عمارت میں ہم موجود ہیں وہ قابل اعتماد ہے؟
تاہم اجتماعی غم صرف وقتی جذباتی ردعمل نہیں بننا چاہیے۔ ہم پہلے بھی کئی حادثات کے بعد بیانات، کمیٹیاں اور وعدے دیکھ چکے ہیں لیکن پھر وہی مسائل دوبارہ سامنے آجاتے ہیں۔
یہ واقعہ ملک گیر عملی اقدامات کا آغاز بننا چاہیے جن میں تمام پرانی اور خطرناک عمارتوں کا مکمل جائزہ، اسکولوں، ٹیوشن سینٹروں، اسپتالوں اور عوامی استعمال کی عمارتوں کے لیے لازمی حفاظتی تصدیق، قابل مرمت عمارتوں کی فوری مرمت اور انسانی جان کے لیے خطرہ بننے والی عمارتوں کا انہدام شامل ہونا چاہیے۔
متعلقہ اداروں کو عمارتوں کی منظوری، معائنوں اور قواعد پر عمل درآمد کا مکمل برقی ریکارڈ رکھنا چاہیے۔ انجینئروں، معماروں، ٹھیکیداروں، مالکان اور غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کا احتساب یقینی بنایا جائے اور قانون پر عمل درآمد سیاسی دباؤ یا امتیازی سلوک کے بغیر کیا جائے۔
والدین کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔ بچے کو اسکول یا ٹیوشن سینٹر چھوڑ دینا ہی کافی نہیں۔ انہیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ عمارت محفوظ ہے یا نہیں، اس کی منظوری موجود ہے یا نہیں، ہنگامی انتظامات کیا ہیں اور عمارت کی حالت کیسی ہے۔
ایک بالغ اور ذمہ دار معاشرے کے لیے ذمہ دار شہریوں کے ساتھ ذمہ دار ریاست بھی ضروری ہے۔
ان بچوں کی اموات کو صرف ایک اور سانحہ سمجھ کر فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایسا موڑ بنانا چاہیے جہاں پاکستان یہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ایک ایسا معاشرہ بن کر رہنا چاہتا ہے جو صرف حادثات کے بعد ردعمل دیتا ہے یا ایسا ملک بننا چاہتا ہے جو نظم و ضبط، جوابدہی اور دور اندیشی کے ذریعے ایسے سانحات کو پہلے ہی روک دے۔
گری ہوئی چھت صرف ایک تعمیراتی ناکامی یا غفلت کی علامت نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ اگر ہم نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا تو اگلا انہدام صرف ایک اور عمارت کو نہیں گرائے گا بلکہ ایک مہذب معاشرہ بننے کے ہمارے عزم کی کمزوری کو بھی مزید بے نقاب کردے گا۔
