Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دے دیا

اقوامِ متحدہ کے معیاری نقشے پر بھارتی ووٹ، کشمیر سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہے

اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دے دیا۔

اقوامِ متحدہ میں منظور ہونے والی قرارداد میں روایتی مرکیٹر نقشے کی جگہ ’’ایکول ارتھ‘‘ نقشہ اپنانے کی حمایت کی گئی  جس میں بھارت سمیت 164 ممالک نے اقوامِ متحدہ کے معیاری’’ ایکول ارتھ ‘‘ نقشے کے حق میں ووٹ دیا تاہم اقوام متحدہ کے معیاری ایکول ارتھ نقشے نے بھارت کے اٹوٹ انگ بیانیے کی قلعی کھول دی۔

 اقوامِ متحدہ کے پیش کردہ عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقہ جبکہ لائن آف کنٹرول کو نقطہ دار لکیر سے نمایاں کیا گیا، بھارتی سرحدی دعوؤں کو بڑا سفارتی دھچکا، کشمیر کی متنازع حیثیت پھر عالمی سطح پر نمایاں ہو گئی۔

بھارت نے خود کشمیر کو متنازع دکھانے والے عالمی نقشے کے حق میں ووٹ دے کر اپنا نام نہاد اٹوٹ انگ بیانیہ دفن کردیا جبکہ عالمی فورم پر بھارتی ووٹ نے کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینے کے نئی دہلی کے دعوے کو کمزور کردیا۔

 نئی دہلی کا دوہرا معیار بے نقاب ہوگیا ملک کے اندر کشمیر کو بھارتی علاقہ دکھانے پر اصرار، مگر اقوامِ متحدہ میں متنازع نقشے کے حق میں ووٹ دیا۔

 اندرونی مخالفت کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے مبہم وضاحتی بیان جاری کر تے ہوئے موقف اپنایا کہ  نقشے کے جغرافیائی تناسب کی حمایت کی، اس میں دکھائی گئی سرحدوں کی نہیں تاہم نئی دہلی کی وضاحت تضاد دور نہ کرسکی ووٹ جغرافیائی تناسب کے لیے تھا تو نقشے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟

 پاکستانی وزرات خارجہ نے بھارتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ  اقوام متحدہ کا منظورکردہ نقشہ ہی عالمی سطح پر قابل قبول ہے کشمیر کی متنازعہ حیثیت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے واضح ہے-

پاکستان وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے نقشہ جاتی قوانین کے ذریعے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی اداروں پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔

 اقوامِ متحدہ کے معیاری نقشے پر بھارتی ووٹ، کشمیر سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version