Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سابق وفاقی وزراء نے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت کر دی

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حالیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فوری طور پر پالیسی ریٹ بڑھانا قبل از وقت ہوگ

سابق وفاقی وزرا اسد عمر اور مفتاح اسماعیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے معیشت کے لیے بہتر قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرسکتا ہے اور اس سے کاروبار اور سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرسکتا ہے جبکہ شرح سود بڑھانے سے کاروبار اور سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑے گا۔

دوسری جانب اسد عمر نے بھی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا اسٹیٹ بینک کا فیصلہ خوش آئند ہے اور مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ برقرار رکھنا چاہیے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حالیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فوری طور پر پالیسی ریٹ بڑھانا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق شرح سود میں اضافہ معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اس لیے موجودہ سطح پر پالیسی ریٹ برقرار رکھنا مناسب فیصلہ ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مانیٹری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ فیصلہ ملک میں بلند مہنگائی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کو درپیش مختلف چیلنجز کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی بلند شرح بدستور ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اگست میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version