پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے سیکیورٹی انتظامات پر پنجاب حکومت کے اربوں روپے خرچ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ دھرنا طویل ہونے کی صورت میں مجموعی اخراجات 5 ارب روپے سے تجاوز کرسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب بھر سے راولپنڈی اور دیگر علاقوں میں تعینات کی جانے والی پولیس نفری کے صرف سفری اخراجات کی مد میں تقریباً 5 کروڑ روپے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو 10 روز کے دوران ڈیلی الاؤنس کی مد میں تقریباً 45 کروڑ روپے ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے تین وقت کے کھانے اور رہائش کے اخراجات ڈیلی الاؤنس سے پانچ گنا زیادہ ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی انتظامات پر مجموعی لاگت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
راولپنڈی، ٹیکسلا، اٹک اور موٹروے کے مختلف مقامات پر 800 سے زائد کنٹینرز تعینات کیے گئے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق کنٹینرز اور ٹرک مالکان کو تاحال ادائیگیاں نہیں کی گئیں اور بعض مالکان سے رابطہ بھی نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق احتجاج اور دھرنا طویل ہونے کی صورت میں پنجاب حکومت کو 5 ارب روپے سے زائد کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ پولیس نفری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شہری حلقوں کے وسائل استعمال کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث روزانہ کی بنیاد پر معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جس سے معیشت کو اضافی مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ احتجاج میں طوالت کی صورت میں سرکاری خزانے پر مالی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
