کون کہتا ہے کہ ہمارے ملک سے غربت ختم نہیں ہوسکتی؟ جو بھی کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ غربت ختم کرنے کا ایک آسان اور سیدھا سادہ سا طریقہ موجود ہے اور وہ یہ کہ غربت کے مستقل اور پائیدار خاتمے کے لیے ایسا کیا جائے کہ غریبوں کو ہی ختم کردیا جائے۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ نہ رہے گا غریب اور نہ رہے گی غربت!
اب سوال یہ ہے کہ غریبوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب بھی انتہائی آسان ہے۔ وہ ایسے کہ پیٹرول تقریباً 400 روپے لیٹر کردیا جائے، جو ہوچکا ہے۔ پھر یہ کہ روزگار کے مواقع ختم کردیے جائیں، یہ کام بھی بخوبی ہورہا ہے۔ اس کے بعد مہنگائی اس قدر بڑھادی جائے کہ غریب کو آٹا، دال، چاول، چینی، آلو، پیاز اور ٹماٹر کے لالے پڑجائیں، اور یہ لالے پڑ بھی چکے ہیں۔
پھر یہ کہ بجلی، گیس اور پانی کی دستیابی کو مشکل ترین بنادیا جائے تاکہ ان بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگیں اور شدید ذہنی انتشار میں مبتلا ہوجائیں۔ تو یہ کام بھی انجام پاچکا ہے۔ بے بس اور لاچار عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد ذہنی امراض میں مبتلا ہوچکی ہے۔
ہمارے ہاں غربت کے خاتمے کا دن منانے کے بجائے غریبوں کے خاتمے کا دن منانا بنتا ہے کیونکہ غریبوں کے لیے نئے صوبے بنانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ کوئلے، گیس اور دیگر معدنیات کے ذخائر تلاش کیے جا رہے ہیں، انڈر پاسز، پلوں اور شاہکار تعمیراتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے، سڑکیں بنائی جارہی ہیں، لال، نیلی، پیلی بسیں منگوائی جارہی ہیں۔ بس نہیں ہورہا تو یہ کہ غریب کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہورہی۔
آج بڑے بڑے ہوٹلوں میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہوگا۔ لنچ بریک میں طرح طرح کے کھانے موجود ہوں گے لیکن آج بھی لاکھوں، کروڑوں غریب خالی پیٹ سوجائیں گے اور اگلی صبح کسی اخبار میں یہ خبر لگی ہوگی کہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اقتدار کی مسندوں پر براجمان شخصیات ملک کے غریب عوام کے لیے بہت فکر مند ہیں۔















