Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جہنیں مکہ مشترکہ معاہدے سے تکلف ہے وہی اس پر تنقید کررہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

‘تنازعات کے اتار چڑھاؤ کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا’

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جہنیں مکہ مشترکہ معاہدے سے تکلف ہے وہی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈیپنڈنٹ عربیہ کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت  اور بالخصوص حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کیلئے اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بہت کم وقت میں آگے بڑھا ہے، کسی چیز کی اصل قدراس کےنتائج سےحاصل ہوتی ہے، دفاعی معاہدہ تین ممالک کی سوچ کا مجموعہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا پیغام ہماری سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کے ذریعے پہلے ہی سامنے آچکا ہے، سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملوں کے حوالے سے پاکستانی عوام، سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ ہے، تنازعات کے اتار چڑھاؤ کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ  کے فوجی تنازع  کو مزید پھیلانا کسی کے مفاد میں نہیں، مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے، مذاکراتی حل میں ناکامی اور فوجی تصادم کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس یقیناً حرکت میں آئے گا۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ الائنس کی قیادت اور لائحہ عمل واضح ہے کہ اس اتحاد کا کوئی بھی جارحانہ ارادہ نہیں ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی عوام سمیت پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی  پر یقین رکھتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے، تنازعات کو کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، یہ اتحاد کسی خاص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔

متعلقہ خبریں