Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف نے پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا

‘حکومت نے معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کر رکھا ہے’

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجن رپورٹ جاری کر دی جس میں رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کر رکھا ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیا مہنگی ہونے اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ اگست کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ ہوئی، مہنگائی قابو کرنے کے لیے شرح سود مزید بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ پاکستان کی درآمدات بڑھنے اور ترسیلات زر کی رفتار سست اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال ترسیلات زر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت نے جاری کھاتوں کا خسارہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے  جبکہ درآمدات رواں مالی سال 70 ارب ڈالر تک پہنچنے کا حکومتی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے برآمدی شعبے کی کارکردگی بہتر نہ ہونے پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے شرح مبادلہ میں لچک ضروری ہے، پاکستانی بینکوں کے قرضوں اور سرمایہ کاری کا 63 فیصد حکومتی قرضوں سے منسلک ہے، حکومتی قرضوں میں اضافے سے قرض لینے کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پاکستان کو بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور زرمبادلہ ذخائر مستحکم رکھنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان میں مالیاتی پالیسی رواں سال سخت رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version