Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران میں اہم اجلاس شروع، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت 4 ممالک کی قیادت آمنے سامنے

گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران بھی ایران کی قیادت سے مذاکرات ہوئے تھے

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کے درمیان تہران میں اہم مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جن میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے اثرات اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق چار ملکی اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہیں۔ ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سیکیورٹی حکام کو بھی اجلاس میں موجود دکھایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مذاکرات کا مقصد خطے میں تعاون بڑھانے، علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور جاری بحران کے اثرات سے نمٹنے کے امکانات پر غور کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اجلاس میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، فلسطین اور لبنان کی صورتحال اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے علاقائی نتائج پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ایرانی حکام کے مطابق اجلاس میں خطے کے ممالک پر مشتمل ایسا سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کے تصور پر بھی بات ہوگی جو بیرونی طاقتوں کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون، اعتماد اور مشترکہ کوششوں پر مبنی ہو۔

سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے بھی اجلاس میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کی یہ کوشش جاری بحران میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت بھی شامل ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت متاثر ہونے کے خدشات ہیں اور یمن میں حوثیوں سے متعلق تنازع بھی علاقائی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران بھی ایران کی قیادت سے مذاکرات ہوئے تھے۔ موجودہ اجلاس کو چاروں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطوں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم مذاکرات کے حتمی نتائج یا کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں