سابق عالمی اسکواش چیمپئن جان شیر خان لاعلاج بیماری کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نگران خیبر پختونخواہ حکومت نے اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن جان شیر خان اور اُن کی اہلیہ کے علاج کیلئے ماہانہ ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کردیا ہے۔
ترجمان نگران حکومت کے مطابق جان شیر خان اور ان کی اہلیہ کے علاج کے لیے تاحیات امداد دی جائے گی، جان شیر کے لیے امداد کی منظوری کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔
8 مرتبہ کے عالمی چیمپئن اور 6 مرتبہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ شپ جیتنے والے جان شیر خان پُراسرار اور نایاب بیماری پارکنسن کا شکار ہیں جس کا پاکستان میں فی الحال علاج ممکن نہیں ہے۔
عالمی طبی ماہرین بھی بس ادویات کے ذریعے وقت کو دھکا دے رہے ہیں کیونکہ علاج کے معاملے میں عالمی سطح پر بھی کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی ہے۔
پاکستان کا نام اسکواش کے میدان میں روشن کرنے والے جان شیر خان 15جون 1969 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بہادر خان پاکستان ایئر فورس سے وابستہ تھے اور ان کے دو بھائی محب اللہ خان جونیئر اور اطلس خان اسکواش کے کھیل سے وابستہ تھے۔
1986ء میں جان شیر خان نے پہلی مرتبہ ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1987ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ اور 1992ء میں پہلی مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ اور چھ مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتا۔ وہ 99 پروفیشنل ٹائٹلز جیتنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے جان شیر خان کو 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 14 اگست 1997ء کوہلال امتیاز عطا کیا تھا۔
پارکنسن کی بیماری
پارکنسن ایک قسم کے اعصابی نظام کی خرابی کا نام ہے۔ اس کی وجہ ایک اعصابی کیمیکل ٹرانسمیٹر بنام”ڈوپامین” کی کمی ہے جو دماغ کے گہرے حصّے میں نمایاں ہوتی ہے۔ اس کمی کی وجہ فی الحال لا معلوم ہے۔
بیماری کے ابتدائی دور میں سب سے نمایاں ہونے والی خرابیوں میں ہاتھوں کا بلاوجہ تھرتھرانہ، سختی آنا، چال کا سستاور نہ ہموار ہوجانا اور چلنے میں تکلیف ہونا ہے۔ بیماری کے اثرات انسانی عقل پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔
یہ بیماری ادھیڑ عمر اور 50 سال سے زائد افراد میں زیادہ عام ہے بیماری کا علاج اکثر”لیوودوپا” اور “ڈوپامین اگونسٹس” سے کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، انسان کا اعصابی نظام خراب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
