Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’’عاقب جاوید کو آئینہ دیکھنا چاہیے‘‘، جیسن گلیسپی کی قومی ٹیم کے فیصلوں پر سخت تنقید

عاقب جاوید کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے، جیسن گلیسپی

پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے سابق کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں اور کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالے جانے پر چیف سلیکٹر عاقب جاوید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سابق کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم کے حالیہ فیصلوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی روزی روٹی اور مستقبل ایسے فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باہر سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم خوف کے ماحول میں کھیل رہی ہے جب کہ عاقب جاوید کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔

جیسن گلیسپی نے سلمان علی آغا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی قیادت کررہے تھے، دوسرے میچ میں ٹیم سے باہر ہوگئے اور تیسرے میچ سے قبل انہیں واپس وطن بھیج دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس طرح کے فیصلے کیسے کیے جارہے ہیں۔ سابق کوچ نے ان فیصلوں کی ذمہ داری عاقب جاوید پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے دور میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

جیسن گلیسپی کے مطابق عاقب جاوید اپنے فیصلے روزانہ تبدیل کرتے ہیں اور حالیہ صورتحال کا الزام سابق کوچز گیری کرسٹن اور ان پر عائد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عاقب جاوید گزشتہ دو برس سے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں جب کہ گیری کرسٹن اور وہ خود اب ٹیم کے ساتھ موجود بھی نہیں ہیں۔

جیسن گلیسپی نے کہا کہ ایسی صورتحال کا الزام سابق کوچز پر عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور عاقب جاوید کو دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے خود اپنا احتساب کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف سلیکٹر اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا فقدان نظر آتا ہے۔ جن کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالا گیا، انہیں اپنے فیصلے کے بارے میں براہ راست آگاہ کرنے کے بجائے اہل خانہ، دوستوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے معلوم ہوا۔

جیسن گلیسپی نے اس طرز عمل کو کھلاڑیوں کے ساتھ انتہائی غیر مناسب رویہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی جب کہ دوسرے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو 194 رنز سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔ قومی ٹیم کے حالیہ فیصلوں پر دیگر سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔

سابق کپتان شاہد آفریدی اور شعیب ملک بھی ان فیصلوں پر حیران ہیں جب کہ سابق کوچ مکی آرتھر نے صورتحال کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا۔

دورہ انگلینڈ کے باقی میچز کے لیے نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک ہیسن اور آسٹریلیا کے ایشلے نوفکے نے ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

Exit mobile version