تین ملکی کرکٹ سیریز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوگئی، سری لنکا کے خلاف اہم مقابلے میں قومی بیٹرز خاطر خواہ مزاحمت نہ کرسکے اور پوری ٹیم محض 110 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، جس کے بعد مہمان ٹیم کو فتح کے لیے 111 رنز کا ہدف ملا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جارہے سیریز کے پانچویں میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، تاہم قومی ٹیم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے وکٹیں گنواتی رہی اور 25.3 اوورز میں اس کی اننگز اختتام پذیر ہوگئی۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز ہی مایوس کن رہا۔ فخر زمان صرف 5 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ معاذ صداقت 8 رنز کے انفرادی اسکور پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ ابتدائی نقصان کے بعد بھی بیٹنگ میں استحکام نہ آسکا اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو سلمان علی آغا بھی صرف 9 رنز کا اضافہ کرسکے۔ بابر اعظم نے 29 رنز کے ساتھ اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن وہ بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بیٹنگ مزید دباؤ میں آگئی۔
انگلینڈ کے خلاف نمایاں کارکردگی دکھانے والے شاداب خان سری لنکا کے خلاف کوئی خاص تاثر قائم نہ کرسکے اور صرف 2 رنز بنا کر وکٹ گنوا بیٹھے۔ قومی ٹیم کی چھ وکٹیں 64 رنز پر گرنے کے بعد بھی صورتحال بہتر نہ ہوسکی اور مڈل آرڈر کی ناکامی نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔
عرفات منہاس 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ حسن نواز نے 17 رنز بنائے۔ حارث رؤف ایک، شاہین آفریدی 15 اور نسیم شاہ 2 رنز بنا سکے۔ یوں پاکستانی اننگز 110 رنز پر سمٹ گئی۔
قومی ٹیم کی اس کارکردگی نے بیٹنگ آرڈر کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔ ابتدائی بلے بازوں کی ناکامی، مڈل آرڈر کی غیر مستقل مزاجی اور وکٹ پر ٹھہرنے میں ناکامی کے باعث پاکستان ایک قابلِ دفاع مجموعہ ترتیب دینے سے محروم رہا۔ اب میچ میں واپسی کے لیے پاکستانی بولرز کو غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی، بصورت دیگر سری لنکا کے لیے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی نہیں دیتا۔
