واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرٹیمس دوم مشن کے خلابازوں سے ان کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹیمس دوم کے خلابازوں کو فون کرکے کہا ’’آپ نے تاریخ رقم کردی ہے اور پورے امریکا کو واقعی فخر محسوس ہوا ہے۔
بعد ازاں انہوں نے مشن کے کینیڈین رکن جیریمی ہینسن کی خدمات کو بھی سراہا جب کہ امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ مستقبل کے مشنز بشمول نئی چاند لینڈنگز، ان کی دوسری مدتِ صدارت کے ختم ہونے کے بعد بھی تاخیر کا شکار ہوسکتی ہیں۔
تاہم انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ہم خلا میں بہت سفر کریں گے اور آخر کار مریخ کا مکمل سفر کریں گے۔
تقریباً 12 منٹ کی اس کال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے خلابازوں سے بات کرتے ہوئے نہ تو جنگ کا ذکر کیا اور نہ ہی کینیڈا کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے کینیڈٰن رکن ہینسن سے کہا ’’میں نے ایک بہت خاص شخص وین گریٹزکی سے بات کی جو آپ جانتے ہیں۔ میں نے آپ کے وزیراعظم اور کینیڈا میں اپنے بہت سے دوسرے دوستوں سے بھی بات کی اور وہ سب آپ پر فخر کررہے ہیں‘‘۔
دوران گفتگو صدر ٹرمپ بے حد متجسس لگ رہے تھے اور خاص طور پر انہیں اس بات میں دلچسپی تھی کہ جب جہاز چاند کے پیچھے گیا تو اس مختصر عرصے میں زمین سے کٹے ہونا کیسا لگا۔
اس کے جواب میں مشن کے پائلٹ وکٹر گلوور نے کہا ’’مجھے کہنا پڑے گا کہ یہ واقعی بہت اچھا تھا‘‘۔
کال کے اختتام کے قریب امریکی صدر تقریباً ایک منٹ خاموش رہے جس سے خلابازوں کو لگا کہ رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور پھر وہ اپنے مائیکروفون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگے جو کیپسول میں مسلسل گھوم رہا تھا پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا صدر اب بھی لائن پر ہیں۔
جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ جی ہاں میں موجود ہوں اور اس وقت ان کی آواز میں واضح گونج تھی۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ اس بار ہم نہ صرف اپنا پرچم لہرائیں گے اور اپنے نقش چھوڑیں گے بلکہ مریخ تک حتمی مشن کی بھی بنیاد رکھیں گے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز یہ خلائی جہاز چاند کے پار سے گزرا اور خلابازوں کو زمین سے سب سے زیادہ دور لے گیا تھا۔
