سائبر سیکیورٹی کمپنی کی تحقیق کے مطابق 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پاکستان میں بچوں کی جانب سے سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی موبائل ایپ یوٹیوب رہی جس نے بچوں کی مجموعی ایپ کی سرگرمی میں 31.2 فیصد حصہ لیا جب کہ انسٹاگرام دوسرے نمبر پر رہا۔
تحقیق کے مطابق بچوں کی موبائل ایپ سرگرمی میں انسٹاگرام کا حصہ 18.8 فیصد، واٹس ایپ کا 17.4 فیصد اور فیس بک کا 10.8 فیصد رہا۔
ٹک ٹاک 5.7 فیصد استعمال کے ساتھ بچوں میں پانچویں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ رہی۔ اعدادوشمار میں بچوں کی جانب سے کثرت سے استعمال کیے جانے والے آن لائن ذرائع میں متعدد افراد کے ایک ساتھ کھیلنے والے کھیل بھی شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق روبلوکس ایسا کھیل ہے جسے پاکستانی بچے موبائل فونز کے ساتھ ساتھ کمپیوٹرز پر بھی استعمال کرتے رہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متعدد افراد کے ایک ساتھ کھیلے جانے والے آن لائن کھیل اور رابطے کے پلیٹ فارم بچوں کو اجنبی افراد سے رابطے کے خطرے سے دوچار کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے رابطوں کے نتیجے میں بچوں کو آن لائن ورغلانے، دھوکا دہی، بلیک میلنگ اور انہیں نقصان دہ یا غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوششوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جانے والے جعلی مواد کے ممکنہ خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کو تبدیل کرکے جعلی مواد تیار کیا جاسکتا ہے جسے انہیں ہراساں کرنے یا ان کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق ماہر نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں سے انٹرنیٹ کے خطرات کے بارے میں بات کریں اور انہیں ذاتی یا حساس معلومات اور تصاویر کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی ہدایت دیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کو اجنبی افراد سے آن لائن رابطہ کرنے اور ایسی گفتگو کو خفیہ رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ نتائج بچوں کی سرگرمیوں سے متعلق گمنام معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے جن میں 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران اینڈرائیڈ موبائل آلات اور کمپیوٹرز پر بچوں کی ایپ استعمال کرنے کی تفصیلات شامل تھیں۔
