Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی کمپنیوں کے خلاف عالمی کاپی رائٹ اتحاد، 40 بڑے میڈیا ادارے شامل

اتحاد کا آغاز رواں سال فروری میں کیا گیا تھا جبکہ اس میں پہلے ہی بی بی سی، فنانشل ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے بڑے ادارے شامل تھے

دنیا کے 40 بڑے میڈیا ادارے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیوں کی جانب سے صحافتی مواد کے غیر مجاز استعمال کو روکنے اور منصفانہ معاوضے کے حصول کے لیے قائم عالمی اتحاد میں شامل ہوگئے ہیں۔ اتحاد میں نیویارک ٹائمز، دی اکانومسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت متعدد معروف میڈیا ادارے شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اسٹینڈرڈز فار پبلشر یوزیج رائٹس (ایس پی یو آر) نامی اس اتحاد نے منگل کو اپنے ارکان میں اضافے کا اعلان کیا۔

اتحاد کا آغاز رواں سال فروری میں کیا گیا تھا جبکہ اس میں پہلے ہی بی بی سی، فنانشل ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے بڑے ادارے شامل تھے۔ تازہ توسیع کے بعد اتحاد میں شریک میڈیا اداروں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔

اتحاد کا بنیادی مقصد میڈیا اداروں کو اپنے صحافتی مواد کے استعمال کی نگرانی، کاپی رائٹ کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور چیٹ جی پی ٹی اور کلاڈ جیسی مصنوعی ذہانت کی خدمات تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے لیے مذاکرات میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اتحاد کے شریک بانی اور ترجمان ڈیوڈ بٹل کے مطابق ایک منصفانہ اور پائیدار معلوماتی معیشت کے قیام کی کوششوں کو تیزی سے حمایت حاصل ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری صحافت مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم ناشرین کے پاس فی الحال اپنے مواد کے استعمال کا منصفانہ معاوضہ یقینی بنانے کے لیے مؤثر ذرائع محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی 4 اقسام، مستقبل کی دنیا کو کیسے بدل سکتی ہیں؟

دوسری جانب اے ایف پی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو فیبریس فرائز نے کہا کہ روزانہ لاکھوں افراد معلومات کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں پر انحصار کرتے ہیں، جن کے جوابات میں خبر رساں اداروں کے صحافیوں کی جمع کردہ اور تصدیق شدہ معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق اصل صحافتی کام کو تسلیم کرنا، اس کا مناسب حوالہ دینا اور اس کے استعمال کا منصفانہ معاوضہ ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافتی مواد کے استعمال کا سراغ لگانا محض دانشورانہ ملکیت کا معاملہ نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

میڈیا اداروں کے اس اتحاد کو ایسے وقت میں وسعت ملی ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی جانب سے خبروں اور دیگر اشاعتی مواد کے استعمال، کاپی رائٹ کے تحفظ اور مواد کے معاوضے سے متعلق تنازعات عالمی سطح پر توجہ حاصل کررہے ہیں۔ اتحاد کی کوشش ہے کہ ناشرین اپنے مواد پر حقوق کے تحفظ اور اس کے تجارتی استعمال کے لیے زیادہ مؤثر اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرسکیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version