Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹیسلا کی اڑنے والی اسپورٹس کار متعارف، راکٹ تھرسٹرز سے فضا میں قلابازیاں

کمپنی کے مطابق نئی روڈسٹر ایک بار چارج ہونے پر 480 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرسکے گی

امریکی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی الیکٹرک اسپورٹس کار روڈسٹر متعارف کرا دی، جو راکٹ طرز کے تھرسٹرز کی مدد سے فضا میں اچھلنے، قلابازیاں کھانے اور گاڑیوں کے اوپر سے گزرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتی دکھائی گئی۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کی پیداوار 2028 میں شروع کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کی گئی نئی روڈسٹر کی رونمائی جمعرات کو امریکی ریاست ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے آزمائشی مرکز میں کی گئی، جہاں گاڑی نے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے حاضرین کو حیران کردیا۔

تقریب کے دوران سفید رنگ کی دو نشستوں والی گاڑی نے خصوصی سکشن سسٹم کی مدد سے ایک ریمپ پر الٹی سمت میں چلنے کا مظاہرہ کیا، پھر فضا میں گھوم کر نصب شدہ تھرسٹرز کی مدد سے لینڈنگ کی۔ بعد ازاں گاڑی نے تھرسٹرز کے ذریعے ایک ٹرک اور دیگر گاڑیوں کے اوپر سے چھلانگ لگائی اور ہوا میں قلابازی بھی کھائی۔

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے انجینئرز کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے اور اس نوعیت کی چیز پہلے کسی فلم میں بھی نہیں دیکھی گئی۔ کمپنی کے شعبہ انجینئرنگ کے سربراہ لارس موراوی کے مطابق روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ یعنی تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کرسکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 370 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کرسکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق نئی روڈسٹر ایک بار چارج ہونے پر 480 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرسکے گی۔ تاہم یہ حد 2017 میں کیے گئے اعلان سے خاصی کم ہے، جب ٹیسلا نے گاڑی کا پروٹوٹائپ پیش کرتے ہوئے 2020 میں ڈیلیوری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ نئی گاڑی کی رونمائی کے باوجود اس کی پیداوار میں مزید تاخیر کا خدشہ بھی زیر بحث ہے۔

ٹیسلا نے اپنی ریزرویشن ویب سائٹ پر روڈسٹر کے مختلف ورژنز بھی پیش کیے ہیں۔ پرفارمنس ماڈل کے لیے 50 ہزار ڈالر جبکہ تھرسٹ ورژن کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر پیشگی رقم مقرر کی گئی ہے۔ تھرسٹ ماڈل میں تیز رفتار بڑھانے کے لیے اضافی تھرسٹرز شامل ہوں گے، جبکہ راکٹ ورژن صرف خصوصی دعوت پر دستیاب ہوگا اور کمپنی کے مطابق اس میں ایک نشست اور مکمل پرواز کا نظام ہوگا۔ کمپنی نے تقریب میں گاڑی کی حتمی فروخت قیمت کا اعلان نہیں کیا، البتہ تقریباً ایک دہائی قبل اس کی ابتدائی قیمت 2 لاکھ ڈالر بتائی گئی تھی۔

ایلون مسک نے اس سے قبل روڈسٹر کو کمپنی کی مالی کارکردگی کے لیے محدود اہمیت کا حامل قرار دیا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گاڑی ٹیسلا کی جدید انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرنے والی اہم ترین گاڑی بن سکتی ہے۔ بعض مبصرین نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے اشتراک کو دونوں کمپنیوں کے ممکنہ انضمام سے متعلق قیاس آرائیوں کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔

روڈسٹر کی رونمائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹیسلا اپنی توجہ روایتی گاڑیوں کی تیاری سے مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرائیونگ اور انسان نما روبوٹس کی جانب منتقل کر رہی ہے۔ کمپنی نے رواں سال ماڈل ایس اور ماڈل ایکس کی فروخت روک کر آپٹیمس روبوٹس کی تیاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ سائبرکَیب نامی خودکار ٹیکسی بھی متعارف کرائی ہے۔

دوسری جانب ٹیسلا کی پرانی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت گزشتہ دو برسوں کے دوران دباؤ کا شکار رہی ہے۔ کمپنی 21 اکتوبر کو تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کرے گی، جنہیں سرمایہ کاروں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق روڈسٹر کی شاندار رونمائی کے مقابلے میں کمپنی کے منافع، نقد بہاؤ اور کاروباری کارکردگی کے اعدادوشمار سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔

Exit mobile version