امریکی محققین نے ایک انتہائی چھوٹا اُڑنے والا روبوٹ تیار کیا ہے، جس کا وزن صرف چند ملی گرام ہے تاہم یہ روبوٹ اپنے وزن سے 11 ہزار گنا زیادہ بوجھ تلے دبنے اور مکھی مارنے والے جھاپڑ کی ضرب برداشت کرنے کے بعد دوبارہ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس روبوٹ کا وزن صرف 185ملی گرام ہے، جو تقریباً پانی کے چار قطروں کے وزن کے برابر ہے۔ یہ مکمل طور پر پولیمر نامی مادے سے بنایا گیا ہے اور اس کے ساتھ لچک دار فلم پر لگے ہوئے دو مخروطی شکل کے پر موجود ہیں۔
اس کے پر ایک سیکنڈ میں 30 مرتبہ حرکت کرتے ہیں اور یہ اپنے وزن سے تین گنا زیادہ قوتِ اُٹھان پیدا کرتا ہے۔

اس میں ایک خاص آلہ استعمال کیا گیا ہے جسے الیکٹرو اسٹرکٹیو ایکچیویٹر کہتے ہیں۔ یہ برقی میدان لگنے پر اپنی شکل تبدیل کرتا ہے اور بغیر کسی میکانی گیئر کے براہِ راست روبوٹ کے پروں کو حرکت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو کام کاج کے لیے جدید روبوٹ متعارف، فی گھنٹہ کرایہ مقرر
تجربات کے دوران اس روبوٹ کو مکھی مارنے والے جھاپڑ سے مارا گیا، لیکن وہ دوبارہ پرواز کرنے لگا۔ اسی طرح اسے تقریباً 4.5 پاؤنڈ (2 کلوگرام) وزنی ایلومینیم کے بلاکس کے نیچے دبا کر چپٹا کر دیا گیا، مگر وہ اپنی شکل اور فعالیت بحال کرکے دوبارہ کام کرنے لگا۔
محققین کے مطابق مستقبل میں ایسے مضبوط ننھے روبوٹس کو ماحولیاتی نگرانی، فصلوں کی گردہ افشانی اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ایسے انتہائی چھوٹے روبوٹس بنانے کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو نازک ہونے کے بجائے دباؤ اور ضرب برداشت کرکے حقیقی دنیا میں بھی کام کر سکیں۔




















