سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے محققین نے ایک انتہائی باریک اور لچک دار مصنوعی الیکٹرانک جلد تیار کی ہے، جسے ایلومنیٹرکا نام دیا گیا ہے۔ یہ جلد چھونے پر روشنی خارج کرتی ہے اور فوری طور پر دکھاتی ہے کہ کس جگہ دباؤ پڑ رہا ہے اور اس کی شدت کتنی ہے۔
یہ مصنوعی جلد صرف 70 مائیکرو میٹر موٹی ہے اور اس کی ریزولوشن 847 ڈاٹس فی انچ ہے جس کی مدد سے انگلیوں کے نشانات کی باریک لکیریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں دباؤ محسوس کرنے، اس کی پیمائش کرنے اور اسے روشنی کی صورت میں ظاہر کرنے کے تینوں کام ایک ہی ڈیوائس میں انجام پاتے ہیں۔
عام طور پر روبوٹس، مصنوعی اعضا اور طبی آلات میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک جلد دباؤ محسوس کرنے کے لیے متعدد سینسرز استعمال کرتی ہے تاہم یہ سینسر برقی سگنلز کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں جہاں ان کا تجزیہ کرکے دباؤ کی شدت اور مقام کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نتائج اسکرین یا کسی دوسرے نظام کے ذریعے دکھائے جاتے ہیں۔ اس طریقے میں اضافی پرزوں، تاروں اور پیچیدہ الیکٹرانکس کی ضرورت پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سورج کی روشنی کے بغیر زندہ رہنے والا حیرت انگیز پودا دریافت
ایلومنیٹر اس مسئلے کو ایک منفرد طریقے سے حل کرتی ہے۔ اس کی اوپری تہہ میں ہزاروں انتہائی چھوٹے گنبد نما ابھار موجود ہیں جبکہ درمیانی تہہ میں تانبے سے ملا ہوا زنک سلفائیڈ روشنی پیدا کرنے والے ذرات رکھتا ہے۔ نچلی تہہ ایک شفاف الیکٹروڈ پر مشتمل ہوتی ہے۔

جب انگلی سے جلد کو دبایا جاتا ہے تو چھوٹے ابھار سکڑ کر روشنی پیدا کرنے والی تہہ سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ اس سے برقی میدان مضبوط ہوتا ہے اور متعلقہ جگہ پر روشنی پیدا ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ دباؤ ڈالا جائے، روشنی اتنی ہی زیادہ روشن ہو جاتی ہے۔ اس طرح جلد خود ہی دباؤ کی جگہ اور شدت کو بصری شکل میں ظاہر کرتی ہے اور الگ اسکرین کی ضرورت نہیں رہتی۔
محققین کے تجربات میں یہ جلد تقریباً 15 ملی سیکنڈ میں روشنی پیدا کرنے کے قابل تھی جبکہ اس کے الیکٹرانک پیمائشی نظام کو نتائج دینے میں تقریباً 110 ملی سیکنڈ لگے۔ یہ ہلکے لمس سے لے کر 180 کلو پاسکل تک دباؤ محسوس کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسے اپنی اصل لمبائی سے دو گنا سے زیادہ کھینچا جا سکتا ہے اور بار بار موڑنے اور دباؤ ڈالنے کے باوجود اس کی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے طبی استعمال کا مظاہرہ مصنوعی پاؤں اور لیپروسکوپک سرجری میں استعمال ہونے والے ایک آلے پر بھی کیا گیا۔ تجربات میں جب جراحی کے آلے نے مصنوعی بافتوں یا خون کی نالیوں کو پکڑا تو جلد نے روشنی کے ذریعے دکھایا کہ کہاں اور کتنا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے سرجنوں کو نازک بافتوں کو نقصان پہنچائے بغیر آلات استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ والے حصوں کی شناخت، روبوٹک ہاتھوں کو نازک اشیا سنبھالنے، مصنوعی اعضا کی گرفت بہتر بنانے اور پہننے کے قابل طبی آلات میں استعمال ہو سکتی ہے۔ انگلیوں کے نشانات کی باریک تفصیلات پہچاننے کی صلاحیت اسے بایومیٹرک شناخت کے لیے بھی مفید بنا سکتی ہے۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کو عملی استعمال میں لانے سے پہلے مزید تحقیق درکار ہے۔ موجودہ تجرباتی نظام میں 150 وولٹ اور 1 کلو ہرٹز پر چلنے والی بیرونی متبادل برقی رو کی ضرورت پڑتی ہے، جو پہننے کے قابل ڈیوائس کے لیے موزوں نہیں۔ محققین اب اس کی بجلی کی ضرورت کم کرنے، حساسیت بڑھانے اور طبی استعمال کے لیے اسے مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔




















