Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زمین کا مستقبل خطرے میں، گرین ہاؤس گیسوں کا نیا عالمی ریکارڈ قائم

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سال تاریخ کے گرم ترین سال رہے ہیں اور یہ رجحان برقرار رہنے کا خدشہ ہے

موسمیاتی تبدیلی کے خطرات مزید سنگین ہوگئے، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2025 میں فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں بلکہ صدیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ، تینوں اہم گرین ہاؤس گیسوں کی فضائی مقدار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے زمین کے درجہ حرارت میں طویل مدتی اضافے اور شدید موسمی واقعات کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ڈبلیو ایم او کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا کہ ہر سال گرین ہاؤس گیسوں کا نیا ریکارڈ قائم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ فضا میں گرمی کو روک کر رکھنے والے اثرات غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس اضافی حرارت سے شدید موسمی واقعات اور معیشتوں و معاشروں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سال تاریخ کے گرم ترین سال رہے ہیں اور یہ رجحان برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں طویل عرصے تک موجود رہتی ہے، اس لیے اس کے اثرات صرف چند سال نہیں بلکہ کئی دہائیوں اور صدیوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی

عالمی موسمیاتی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط مقدار 426.8 پارٹس فی ملین، میتھین کی 1,948 پارٹس فی بلین اور نائٹرس آکسائیڈ کی 339.1 پارٹس فی بلین ریکارڈ کی گئی۔

یہ مقداریں صنعتی دور سے پہلے، یعنی 1750 سے قبل کی سطح کے مقابلے میں بالترتیب 153 فیصد، 267 فیصد اور 126 فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک فضا میں موجود رہنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی حدت پیدا کرنے والے اثرات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصہ تقریباً 66 فیصد ہے۔

کوئلے، تیل اور گیس جیسے فوسل فیول جلانے سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً نصف حصہ ہر سال فضا میں رہ جاتا ہے، جبکہ باقی مقدار زمین اور سمندر جذب کرلیتے ہیں۔ اس قدرتی جذب کے باوجود فضا میں گیسوں کا مسلسل بڑھنا عالمی درجہ حرارت کے لیے تشویش ناک ہے۔

2024 سے 2025 کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کی عالمی اوسط مقدار میں 2.8 پارٹس فی ملین اضافہ ہوا۔ اگرچہ یہ 2023 سے 2024 کے دوران ریکارڈ کیے گئے 3.6 پارٹس فی ملین اضافے سے کم ہے، تاہم گزشتہ دہائی کی اوسط سالانہ شرح 2.6 پارٹس فی ملین سے زیادہ ہے۔ 1960 کی دہائی میں یہ شرح محض 0.8 پارٹس فی ملین تھی۔

2026 میں بھی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ

ڈبلیو ایم او کی سینئر سائنسی افسر اوکسانا تاراسووا کے مطابق 2025 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کی رفتار میں نسبتاً کمی کی ایک وجہ زمین کے قدرتی کاربن جذب کرنے والے نظام کی بحالی اور جنگلات میں آگ سے خارج ہونے والی کاربن کی مقدار میں کمی تھی۔ یہ تبدیلی 2023 اور 2024 کے دوران ال نینو کے مضبوط اثرات کے بعد سامنے آئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سالانہ 2.8 پارٹس فی ملین کا اضافہ بھی فوسل فیول کے استعمال سے فضا میں شامل ہونے والی کاربن کی بڑی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوسل فیول کے مسلسل استعمال اور طاقتور ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث 2026 میں بھی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ ال نینو زمین کے قدرتی کاربن جذب کرنے والے نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جیسا کہ 2023 اور 2024 میں ہوا تھا۔

میتھین اور بجلی کے شعبے سے جڑی گیسوں پر بھی تشویش

رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک اثرانداز رہنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی حدت پیدا کرنے والے اثرات میں میتھین کا حصہ تقریباً 16 فیصد ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں فضا میں کم عرصہ برقرار رہتی ہے، تاہم اس کے موسمیاتی اثرات اہم ہیں۔

فضا میں خارج ہونے والی میتھین کا تقریباً ایک تہائی حصہ قدرتی ذرائع، مثلاً دلدلی علاقوں سے آتا ہے، جبکہ باقی مقدار انسانی سرگرمیوں سے خارج ہوتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں مویشی پالنا، چاول کی کاشت، کچرے کے ڈھیر اور حیاتیاتی مادے کو جلانا شامل ہیں۔

ڈبلیو ایم او نے توانائی کے نظام کو کم کاربن اخراج کی جانب منتقل کرنے کے دوران دو دیگر گیسوں، مالیکیولر ہائیڈروجن (H2) اور سلفر ہیکسا فلورائیڈ (SF6) پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سلفر ہیکسا فلورائیڈ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں برقی چنگاریوں کو قابو کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کی فضائی مقدار گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں ہائیڈروجن کی مقدار بڑھنے کی وجوہات ابھی پوری طرح واضح نہیں، تاہم اسے توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں سے متعلق اقوام متحدہ کی یہ سالانہ رپورٹ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس COP31 سے قبل جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے خطرات کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے موسم، معیشت اور انسانی زندگی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

Exit mobile version