اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے اکتوبر اور نومبر میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جب کہ ملک کے شمال مغربی علاقوں میں ژالہ باری کے باعث کھڑی خریف فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت وفاقی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ربیع 2026-27 کے پیداواری اہداف، پانی کی دستیابی، کھاد کی ضروریات اور فصلوں کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں خریف فصلوں کی پیداوار کے تخمینوں کی منظوری دی گئی اور بتایا گیا کہ سات بڑی خریف فصلوں میں سے پانچ کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔
گنے کی پیداوار 2025-26 میں 9 کروڑ 72 لاکھ ٹن، چاول کی پیداوار ایک کروڑ 18 ہزار ٹن سے زائد جب کہ مکئی کی پیداوار 99 لاکھ 70 ہزار ٹن رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اسی طرح مونگ کی پیداوار ایک لاکھ 71 ہزار ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جب کہ مرچ کی فصل کے رقبے، پیداوار اور فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی اشاریاتی قیمت کے اعلان کے بعد ربیع فصلوں کے حتمی پیداواری اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ ربیع 2026-27 کے لیے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی اطمینان بخش رہے گی۔
پانی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ربیع سیزن میں پنجاب اور سندھ کو 22 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے جب کہ صوبوں کے لیے 2 کروڑ 91 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ پانی مختص کیا گیا ہے۔ زیریں علاقوں میں ربیع فصلوں کے لیے پانی کے محتاط استعمال کی سفارش بھی کی گئی۔
کھاد کی دستیابی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 2026-27 کے دوران یوریا کی مجموعی دستیابی 39 لاکھ 50 ہزار ٹن متوقع ہے جب کہ ربیع سیزن میں اس کی کھپت 35 لاکھ 96 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے۔ ڈی اے پی کی دستیابی 7 لاکھ 66 ہزار ٹن متوقع ہے اور طلب و رسد کے فرق کو نجی شعبے کی درآمدات کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم 3 ہزار 231 اعشاریہ 6 ارب روپے تک پہنچ گئی جو مقررہ سالانہ ہدف سے 24.7 فیصد زیادہ ہے۔
اجلاس کو مزید بریفنگ دی گئی کہ قومی بیج پالیسی، زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی اور قومی زیتون پالیسی کی منظوری دی جاچکی ہے جب کہ زرعی معیار، غذائی تحفظ اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے زرعی پیداوار میں اضافے اور پیداواری لاگت میں کمی پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون، زرعی توسیعی خدمات کی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کو بروقت کسانوں تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ کسانوں کو مناسب قیمت پر معیاری زرعی مداخل کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے جب کہ زرعی گریجویٹس کے لیے بین الاقوامی تربیتی مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔
