امریکی صدر جو بائیڈن پہ کالج طلبہ کو پڑھائے بغیر 10 لاکھ ڈالر تنخواہ لینے کا الزام سامنے آگیا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کالج طلبہ کو پڑھائے بغیر 10 لاکھ ڈالر تنخواہ وصول کی۔
میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جو بائیڈن نے سابق صدر بارک اوباما کے دور میں جب نائب صدر کا عہدہ چھوڑا تھا تو اس کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے انہیں 10 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے لیکن انہوں نے کبھی کلاس نہیں لی۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر جو بائیڈن کا سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ
جو بائیڈن کو رقم کی ادائیگی دو سال کے لیے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی جانب سے کی گئی تھی۔ یہ انکشاف ریپبلکن نیشنل کمیٹی ریسرچ نے کیا ہے۔ یہ کمیٹی پہلے بھی جو بائیڈن کے حوالے سے ایسے کئی انکشافات کر چکی ہے۔
کمیٹی کا خیال ہے کہ جو بائیڈن جھوٹ بولتے ہیں، بائیڈن 2017 سے 2019 میں فلاڈلفیا اسکول میں اعزازی پروفیسر تھے ۔انہیں
2017 میں 3 لاکھ 71 ہزار 159 جبکہ 2018 اور 2019 میں 5 لاکھ 40 ہزار 484 ڈالر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین کو جدید راکٹ نظام کی مشروط فراہمی پر رضامند
2017 میں جو بائیڈن نے باضابطہ طور پر ’بینجمن فرینکلن صدارتی پریکٹس پروفیسر‘ کا عہدہ قبول کیا تھا۔انہوں نے واشنگٹن میں پین بائیڈن سینٹر فار ڈپلومیسی اینڈ گلوبل انگیجمنٹ کی بنیاد رکھی۔
ڈیلاویئر یونیورسٹی میں بائیڈن انسٹی ٹیوٹ بھی کھولا گیا تاہم ہر جگہ ان کا کردار صرف اعزازی تھا۔
رپورٹ کے مطابق بائیڈن نے لیکچر ضرور دیے لیکن کوئی کورس مکمل طور پر نہیں پڑھایا۔
