چائنا ایورگرینڈ گروپ کا چیئرمین ہوئی کا یان جو ایشیا کا دوسرا امیر ترین شخص تھا جو اپنی 93 فی صد دولت سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی ارب پتی ہوئی کا یان جو ملک کے سب سے امیر اور بااثر تاجروں میں سے ایک تھا، نے اپنی دولت میں 93 فیصد کمی دیکھی ہے۔
بلومبرگ بلینیئر انڈیکس کے مطابق چائنا ایورگرینڈ گروپ کے چیئرمین ہوئی کا یان کی دولت کبھی 42 بلین ڈالر تھی، جس نے انہیں ایشیا کا دوسرا امیر ترین شخص بنا دیا۔ تاہم، اس کی دولت کم ہو کر 3 بلین ڈالر رہ گئی ہے.

واضح رہے کہ ہوئی کا یان کی کمپنی ایورگرینڈ اس وقت چین کی سب سے زیادہ مقروض ڈویلپر کمپنی ہے اور رئیل اسٹیٹ میں نقصان زدہ کمپنی بن چئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چین کے نئے قمری سال کے تہوار کی تاریخ
ایور گرینڈ کمپنی کے چیئرمین ہوئی کا یان نے اپنی کمپنی کو بچانے کے لیے اپنے مکانات اور نجی جیٹ طیارے بھی فروخت کر دیئے ہیں۔
بلومبرگ نے مزید کہا کہ کمپنی کے تقریباً 2 لاکھ ملازمین ہیں، 2020 میں کمپنی کے اثاثوں میں 110 بلین ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا۔
ایورگرینڈ کمپنی چین کے 280 سے زیادہ شہروں میں 1300 سے زیادہ عمارتوں کی مالک ہے۔ امریکی نیوز چینل کے مطابق، کمپنی گزشتہ سال اپنے قرض کی تنظیم نو کے ابتدائی منصوبے کی فراہمی میں بھی ناکام رہی، جس سے اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے ہوئے۔

دولت میں کمی کے بعد ہوئی یا کان سے لوگ بھی علیحدہ ہوتے جا رہے ہیں اور وہ خود کو سیاسی طور پر تیزی سے الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں.
یہ بھی پڑھیں : چینی صدر کی جانب سے موسم بہار کے موقع پر تہنیتی پیغام
ہوئی یا کان چین کے بڑے تاجروں کا پلیٹ فارم سی پی پی سی سی کا 2008 سے حصہ تھا، ہوئی یا کان 2013 میں اسی پلیٹ فارم کی 300 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی کا بھی رکن تھا۔
ہوئی یا کان کو سی پی پی سی سی کے سالانہ کنونشن میں شرکت سے بھی روک دیا گیا ہے کیونکہ اس کی پراپرٹی ایمپائر چین کے کریڈٹ بحران کا سب سے بڑا نقصان بن گئی ہے۔
آسٹریلیا کے ایک اخبار نے رپورٹ کیا کہ اب انہیں ان افراد کی تازہ ترین فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جو اگلے پانچ سالوں کے لیے سی پی پی سی سی تشکیل دیں گے۔
بلومبرگ بلینیئر انڈیکس نے مزید بتایا کہ چین کے پانچ امیر ترین پراپرٹی ٹائیکونز نے بھی گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور پر تقریباً 65 بلین ڈالرز کا نقصان کیا۔




















