Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چینی ارب پتی نے اپنی 93 فیصد دولت کھودی

چائنا ایورگرینڈ گروپ کا چیئرمین ہوئی کا یان جو ایشیا کا دوسرا امیر ترین شخص تھا جو اپنی 93 فی صد دولت سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی ارب پتی ہوئی کا یان جو ملک کے سب سے امیر اور بااثر تاجروں میں سے ایک تھا، نے اپنی دولت میں 93 فیصد کمی دیکھی ہے۔

بلومبرگ بلینیئر انڈیکس کے مطابق چائنا ایورگرینڈ گروپ کے چیئرمین ہوئی کا یان کی دولت کبھی 42 بلین ڈالر تھی، جس نے انہیں ایشیا کا دوسرا امیر ترین شخص بنا دیا۔ تاہم، اس کی دولت کم ہو کر 3 بلین ڈالر رہ گئی ہے.

China Developer Evergrande Denies It's Seeking Government Support - Caixin Global

واضح رہے کہ ہوئی کا یان کی کمپنی ایورگرینڈ اس وقت چین کی سب سے زیادہ مقروض ڈویلپر کمپنی ہے اور رئیل اسٹیٹ میں نقصان زدہ کمپنی بن چئی ہے۔

ایور گرینڈ کمپنی کے چیئرمین ہوئی کا یان نے اپنی کمپنی کو بچانے کے لیے اپنے مکانات اور نجی جیٹ طیارے بھی فروخت کر دیئے ہیں۔

بلومبرگ نے مزید کہا کہ کمپنی کے تقریباً 2 لاکھ ملازمین ہیں، 2020 میں کمپنی کے اثاثوں میں 110 بلین ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا۔

ایورگرینڈ کمپنی چین کے 280 سے زیادہ شہروں میں 1300 سے زیادہ عمارتوں کی مالک ہے۔ امریکی نیوز چینل کے مطابق، کمپنی گزشتہ سال اپنے قرض کی تنظیم نو کے ابتدائی منصوبے کی فراہمی میں بھی ناکام رہی، جس سے اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے ہوئے۔

China's Evergrande Health to Change Its Name as Focus Shifts to NEV Sector

دولت میں کمی کے بعد ہوئی یا کان سے لوگ بھی علیحدہ ہوتے جا رہے ہیں اور وہ خود کو سیاسی طور پر تیزی سے الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں.

ہوئی یا کان چین کے بڑے تاجروں کا پلیٹ فارم سی پی پی سی سی کا 2008 سے حصہ تھا، ہوئی یا کان 2013 میں اسی پلیٹ فارم کی 300 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی کا بھی رکن تھا۔

ہوئی یا کان کو سی پی پی سی سی کے سالانہ کنونشن میں شرکت سے بھی روک دیا گیا ہے کیونکہ اس کی پراپرٹی ایمپائر چین کے کریڈٹ بحران کا سب سے بڑا نقصان بن گئی ہے۔

آسٹریلیا کے ایک اخبار نے رپورٹ کیا کہ اب انہیں ان افراد کی تازہ ترین فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جو اگلے پانچ سالوں کے لیے سی پی پی سی سی تشکیل دیں گے۔

بلومبرگ بلینیئر انڈیکس نے مزید بتایا کہ چین کے پانچ امیر ترین پراپرٹی ٹائیکونز نے بھی گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور پر تقریباً 65 بلین ڈالرز کا نقصان کیا۔

متعلقہ خبریں