Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ترکیہ اور شام میں زلزلے کی ڈچ سائنسدان کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی

ترکیہ اور شام میں زلزلے کی ڈچ سائنسدان کی پیش گوئی  بلکل درست ثابت ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے موسمیاتی ایکسپرٹ کا ترکیہ اور شام میں زلزلے سے متعلق تین فروری کو کیا گیا ٹوئیٹ وائرل ہوگیا۔

فرینک ہوگربیٹ نے تین فروری کو اپنے ٹوئیٹ میں زلزلے کی پیش گوئی کی تھی۔

ڈچ سائنسدان نے زلزلے کا مرکز، ریکٹر اسکیل پہ اس کی شدت اور جن علاقوں میں یہ زلزلہ آنا ہے ٹوئیٹ میں ان کی تفصیل بھی جاری  کی تھی۔

اس ٹوئیٹ کے وائرل ہونے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔

ڈچ سائنسدان نے 2 فروری کو  جاری کی گئی اپنی ویڈیو میں  بھی کہا تھا کہ 4  سے 6  فروری  کے دوران ترکیہ ،شام ، اردن اور لبنان میں بڑا زلزلہ آسکتا ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک کے سیسمک ماہرین کے مطابق زلزلے   کے بارے میں صرف چند منٹ پہلے  ہی خبر ہو سکتی ہے جبکہ  فرینک ہوگربیٹ کی ٹوئیٹ نہ صرف تاریخ کے لحاظ سے درست ہے بلکہ ریکٹر اسکیل پہ اس کی شدت بھی  تقریباً درست تھی۔

ٹویٹ کے بعد مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے فرینک ہوگربیٹ سے رابطہ  کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

مزید پڑھیں: ترکیہ اور شام میں زلزلہ: 7 ہزار سے زائد ہلاکتیں، تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ

ہوگربیٹ نے اس زلزلہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان میں ایک بڑے زلزلے کی پیشگوئی بھی کی تھی۔  ترکی اور شام والا زلزلہ پاکستان ، افغانستان اور بھارت میں بھی آسکتا تھا تاہم  اعداد و شمار ترکی اور شام کی طرف زیادہ اشارہ دے رہے تھے۔

ماہرین زلزلہ اتنی حتمی نوعیت کی پیش گوئی پہ ششدر ہیں۔ٹوئیٹر پہ فرینک کے اکاؤنٹ پہ سوالات  کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ لوگ ان سے اس زلزلہ کی سائنسی نوعیت اور آئندہ آنے والے زلزلوں کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل دنیا کے زیادہ تر افراد نے سیاروں کی مدد سے زلزلے کی آمد اور پیش گوئی کو مسترد کر دیا تھا تاہم  سولر ریسرچ سینٹر ہالینڈ کے ریسرچر کی اس ٹوئیٹ نے دنیا میں ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: زلزلے سے 23 ملین افراد متاثر ہو سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ او

ماہرین کا کہنا ہے کہ  چاند اور دوسرے سیاروں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جیو لوجیکل سروے کچھ چھپا رہے ہیں  ۔  سولر سسٹم کے ایک ریسرچر نے پوری دنیا کو سوچنے پہ مجبور کر دیا  ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  فرینک ہوگر بیٹ نے نہ صرف تاریخ بلکہ زلزلے  کی شدت کو لفظ بہ لفظ صحیح لکھا ۔

کئی ٹوئیٹر صارفین نے فرینک ہوگربیٹ کی ٹوئیٹ کو نظر انداز کرنے پہ دکھ کا اظہار کیا۔

مختلف ممالک میں اس بات پہ بحث چھڑ چکی ہے کہ زلزلوں کی آمد کی پیش گوئی کرنے والے اس طریقہ پہ توجہ کیوں نہ دی گئی۔

متعلقہ خبریں