شام میں زلزلے سے متاثر ہونے والا ڈیم ٹوٹنے سے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے شہر ادلیب میں آنے والے زلزلے کے بعد اچانک ڈیم ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریائے ارونٹس نے گاؤں کے گھروں کو ڈبو دیا ہے جب کہ وہاں کے رہائشیوں کو بے سرو سامانی کی حالت میں گھروں کو چھوڑنا پڑا ہے۔
پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد رہائشیوں نے قریبی زیتون کے باغوں میں پناہ لے رکھی ہے جب کہ دوسرے علاقوں کے لوگوں نے بھی اسی پریشانی میں اپنے گھر چھوڑدیے ہیں۔
سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ گاؤں کے مقامی نجم الدین بن عبدالربیبی کا خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہمارے گھر ڈوب چکے ہیں، ہم کہاں جائیں جب کہ ہمارے پاس کوئی پناہ بھی نہیں ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا گاؤں زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا تھا جب کہ لوگوں کو فوری طور پر خیموں اور دوسرے سامان کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام کے شمالی مشرقی علاقے اس وقت سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں، درجہ حرارت منفی چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے جب کہ سخت ترین سردی میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کی صبح شام اور ترکیہ 7.8 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا جب کہ زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، ہزاروں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں ہیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق 24 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد زخمی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
