مدھیہ پردیش: بھارت میں انسانیت کو شرمسار کردینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس میں دو دلت نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کرکے انہیں غلاظت کھانے پر مجبور کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں انسانیت کو شرمسار کردینے والا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔
ضلع شیوپوری کے گاؤں ورکھاڑی میں دو دلت نوجوانوں کی تذلیل کی گئی اور پھر انہیں جوتیوں کا ہار پہناکر غلاظت کھانے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ طورپر لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں دلت نوجوان ارجن جانو اور سنتوش کیوٹ کو جوتیوں کے ہارپہنائے گئے اور انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے بعد ان نوجوانوں کے منہ میں زبردستی غلاظت ڈالی گئی اور ان کا جلوس نکالتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالہ کردیا گیا۔
یہ واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا جب کہ دو دن بعد اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد منظر عام پر آیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا کے مطابق اس غیر انسانی فعل کا ارتکاب کرنے والے ملزمان میں سے 6 کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کوسخت سے سخت سزا دینے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ورکھاڑی گاؤں کے بعض لوگوں نے بغیر کسی ثبوت کے ارجن جانو اور سنتوش کیوٹ دلت نوجوانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا ہے۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں حال ہی میں ایک شخص پر پیشاب کرنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا جب کہحالیہ دنوں میں ریاست میں اس طرح کی غیرانسانی حرکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔




















