افغانستان کے وسطی صوبوں میں مسلسل بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک اور 41 لاپتہ ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت وزارت ڈیزازٹر منیجمنٹ کے ترجمان شفیع اللہ رحیمی کا کہنا ہے کہ جمعے سے مسلسل ہونے والی بارشوں نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی ہے۔
شفیع اللہ رحیمی نے کہا کہ نشینی علاقے زیر آب آگئے اور کئی گاؤں ڈوب گئے ہیں۔ سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 31 ہوگئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ 41 سے زائد لاپتہ ہیں جن کی تلاش اور ریسکیو کا کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میدان وردک میں 26 ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں ہونے والی بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کرگئی ہے۔
شفیع اللہ رحیمی نے کہا کہ 650 گھر تباہ ہو گئے اور 1500 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیتوں میں تیار فصلیں بھی سیلابی پانی سے تباہ ہوگئیں۔ صوبہ میدان وردک کے کچھ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















