لندن: کووڈ 19 باؤنس بیک قرض میں شامل برطانیہ میں مقیم کری ریسٹورنٹ کے مالک کو 50 ہزار پاؤنڈ کے دھوکہ دہی کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مئی 2020 میں قرض کی زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنے کے لیے سید حسین نے بے ایمانی سے ریسٹورنٹ کا ٹرن اوور 2 لاکھ پاؤنڈ ظاہر کیا تھا جب کہ ان کا اصل کاروبار 3 ہزار پاؤنڈ تک تھا۔
ریسٹورنٹ کے مالک پہلے ہی آگ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر معطل کی سزا کاٹ رہے ہیں، کیونکہ وہ آگ لگنے کے باعث فرار کے مناسب راستے اور فائر الارم فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے جس کی وجہ سے ان کے اوپر رہنے والے افراد کی زندگیوں کو خطرہ تھا۔
سید حسین نے تمام حالات کے باوجود کامیابی کے ساتھ باؤنس بیک قرض حاصل کیا تھا جسے حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران جدوجہد کرنے والے کاروباروں کی مدد کے لیے متعارف کرایا تھا۔
بینک کی جانب سے ان کے کاروباری اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے کے بعد انہوں نے رقم کو فوری طور پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کردیا تھا جب کہ قرض دہندگان کو انہوں نے اندھیرے میں رکھتے ہوئے کمپنی تحلیل کردی تھی۔
بعد ازاں ان کے خلاف کیس کی سماعت ڈربی کراؤن کورٹ میں ہوئی جس میں استغاثہ نے ان کے فریب کارانہ اقدامات پر زور دیا کیونکہ یہ اسکیم جدوجہد کرنے والے کاروبار افراد کے لیے ایک لائف لائن تھی جس میں سید حسین نے دھوکہ کرکے اس عمل کو قابل ملالت بنادیا۔
یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19، برطانیہ میں بنک کے ساتھ 10 ملین پونڈز کا فراڈ
کیس کی کارروائی کے دوران جب سید حسین سے ان کے 2 لاکھ پاؤنڈ ٹرن اوور کے دعویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ایک غلطی قرار دے دیا۔
کیس کی کارروائی کرنے والی الزبتھ ایونز کے مطابق درخواست فارم کے اعداد و شمار میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی رقم واپس کی ہو لہذا انہوں نے دھوکہ دہی اور کمپنیز ایکٹ کے جرم کا اعتراف کیا ہے۔
دوسری جانب سید حسین کے وکیل شام الدین کا وضاحت پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’وہ خاندان کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور اپنے گونگے چچا کی دیکھ بھال کرتے ہیں جب کہ انہوں نے قبول بھی کیا ہے کہ انہوں نے جو بھی کیا وہ غلط تھا‘‘۔
وکیل شام الدین کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی اور وہ کاروبار چلانے کے لیے بالکل نادان تھے، ان کا کاروبار مشکلات کا شکار تھا جس کے بعد انہوں نے باؤنس بیک لون کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔
الزبتھ ایونز کے مطابق پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کی سماعت جنوری میں ہوگی جس میں ان سے رقم اور ان کے اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















