اقوام متحدہ نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں خرم پرویز اور عرفان مہراج کے خلاف لگائے گئے الزامات سمیت ان کی گرفتاری اور نظربندی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے علمبرداروں کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور دیگر ماہرین کی طرف سے جاری ایک مشترکہ اعلامیہ میں خرم پرویز اور عرفان مہراج کے پیشہ وارانہ کام اور جموں وکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں عرفان مہراج کی گرفتاری اور خرم پرویز کی 2021سے مسلسل نظربندی پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد انہیں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی اور اپنے پیشہ وارانہ کام سے روکنا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کو بالکل بھی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف استعمال سے باز رہنا چاہیے جب کہ اعلامیہ میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے میں ’دہشت گرد ایکٹ‘ کی تعریف کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں اعلامیہ میں مودی حکومت کو یاد دلایا گیا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردی کے جرائم کی تعریف سلامتی کونسل کی جانب سے اپنی قرارداد 1566 (2004) میں واضح کی گئی ہے جو کہ حقیقی طور پر اس کے مطابق ہونی چاہیے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا ریاست کی ان ذمہ داریوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے جن کی سلامتی کونسل کی طرف سے توثیق کی گئی ہے۔
سول سوسائٹی کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے پر مودی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہمیں تشویش ہے کہ یہ گرفتاریاں دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ’خطرے پر مبنی‘ نقطہ نظر کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















