اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک افغان فوج کے 200 سے زائد سابق افسران اور اہلکاروں کو جاں بحق کیا جاچکا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کا سب سے زیادہ نشانہ سابق فوج، پولیس اور انٹیلی جنس فورسز بنے ہیں۔
انہوں نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پرانے دشمنوں کے لیے ’’عام معافی‘‘ کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود 200 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے 2021 کے وسط میں افغانستان کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد سے جون 2023 تک ریکارڈ کیے گئے ہیں جب کہ ان افراد کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے دو سال مکمل
دوسری جانب طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر ملا ہبتہ اللہ نے سابق حکومتی اور فوجی اہلکاروں کے لیے عام معافی کا اعلان کر رکھا ہے اور اب تک اس حکم کی عدم تعمیل نہیں کی گئی ہے۔
طالبان حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رپورٹ میں حقائق پیش کیے گئے ہیں تو انکوائری کروائیں گے اور ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















