اسپین میں نوجوان لڑکیوں کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ برہنہ تصاویر وائرل ہوگئیں۔
یورپین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ایک قصبے المیندرالیجو میں 20 سے زائد نوجوان لڑکیوں نے مصنوعی ذہانت سے بنائی گئیں اپنی برہنہ تصاویر موصول ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔
لڑکیوں کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی کہ یہ تصاویر ان کی مرضی کے بغیر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ان کے علم یا رضامندی کے بغیر گردش کر رہی ہیں۔
متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ کی عمریں 11 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔
ان لڑکیوں نے وضاحت کی کہ ان میں سے کسی نے بھی ایسی تصویر نہیں لی تھی لیکن ان تصاویر میں وہ بالکل حقیقی لگ رہی ہیں۔ یہ تصاویر ان لڑکیوں کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے لی گئی ہیں جن میں وہ مکمل طور پر کپڑوں میں ملبوس ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثرین کی شکایات سے نمٹ رہے ہیں، جن میں سے سبھی نابالغ ہیں۔ متاثرہ بچوں کے والدین نے ایک سپورٹ گروپ بھی قائم کیا ہے تاکہ اس آزمائش میں ان کی مدد کی جا سکے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کم از کم 11 مقامی لڑکوں کی شناخت کی گئی ہے جو تصاویر بنانے یا واٹس ایپ اور ٹیلی گرام ایپس کے ذریعے ان کی گردش میں ملوث ہیں۔
تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے ہونے والے جرائم پر قانونی طور پر سزا دی جا سکتی ہے؟
اس حوالے سے مارچ 2022 میں یورپی کمیشن نے سائبر کرائم سے متعلق ایک ہدایت میں اس قسم کے جرم کو قابل گرفت جرم قرار دینے کی تجویز پیش کی۔
ڈچ فوجداری ضابطہ واحد ہے جس میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی شق موجود ہے۔
ماہرین اس بارے میں منقسم ہیں کہ آیا اس جرم کو چائلڈ پورنوگرافی کی تقسیم سمجھا جا سکتا ہے، جس پر زیادہ جرمانہ ہو گا یا احتیاط برتتے ہوئے اسے غلطی قرار دے کر کم سزا سے معاملہ نمٹایا جاسکتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
