سعودی عرب میں یہودیوں کی دعائیہ تقریب اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ایک تاریخی یہودیوں کی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر مواصلات شلومو کارہی نے منگل کی صبح سعودی عرب میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی جب کہ تقریب میں 10 افراد کا منیان شامل تھا جن میں 3 یہودی بھی شامل تھے جو اسرائیلی وفد کا حصہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیر کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ
تقریب میں شرکاء کو روایتی دعائیہ شالیں پہنے دیکھا جاسکتا ہے جو ایٹروگ، کھجور، مرٹل اور ولو کی شاخیں پکڑے ہوئے ہیں جب کہ ان کی مقدس کتاب ایک گلاف میں لپٹی ہوئی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ’تورات‘ ہے۔
تصاویر میں دیکھا گیا ہے کہ شرکاء مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں اور وہ اپنی مقدس کتاب کو پڑھ رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر ایک آرتھوڈوکس یہودی ہیں جو پیر کی شام یونیورسل پوسٹل یونین 2023 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے جب کہ ان کے وفد میں نیسیٹ اکانومی کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ بٹن بھی شامل ہیں۔
یہ اسرائیلی وزیر کا تاریخی دورہ تصور کیا جارہا ہے جو اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس موقع پر وزیر مواصلات شلومو کارہی کا کہنا تھا کہ ’’جس طرح ڈینیئل کے گھر کی کھڑکیاں یروشلم کی طرف کھلی تھیں، اسی طرح ریاض میں بھی ہم یروشلم کی طرف کھڑکیاں کھول کر نماز پڑھ سکتے ہیں‘‘۔
شلومو کارہی کے ساتھ آنے والے اسرائیلی وفد میں وزارت مواصلات، پوسٹل سروس اور وزارت خارجہ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ شلومو کارہی کانفرنس میں پیشرفت اور امن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تقریر کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ سعودی عرب میں امریکی سفیر مائیکل رتنی اور دیگر بین الاقوامی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















